Urdu book · دین و شریعت

دور کی تبدیلی

Urdu book, p. 150

By Maulana Wahiduddin Khan

رکاوٹ بن سکے۔ اب سارے مواقع پورے طور پر اور عمومی طور پر کھول دیئے گئے ہیں ، اب اگر کوئی رکاوٹ آئے گی تو وہ خود مسلمانوں کی داخلی کوتاہی کی بنا پر ہوگی نہ کہ خارجی زیادتیوں کی بنا پر۔ قدیم بادشاہی نظام کے دور میں توحید کا اعلان کرنے پر آدمی کے اوپر آرہا چلا دیا جاتا تھا (صحیح البخاری، کتاب المناقب) اب اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ قدیم آمرانہ سیاست کو ختم کر کے جمہوری سیاست کا دور دنیا میں رائج کر دیا۔ اس کے تحت ہر انسان کو مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ جس نظریہ کو چاہے اختیار کرے اور جس نظریہ کی چاہے تبلیغ کرے۔ قدیم زمانہ میں کوئی بڑا کام کرنے کے لئے عام لوگوں کے پاس وسائل نہیں ہوتے تھے۔ اس زمانہ میں اقتصادیات کا تمام تر انحصار زراعت پر تھا۔ اور زرعی زمینوں کا تنہا مالک صرف بادشاہ ہوتا تھا۔ اس لئے دینی کام کرنے کے لئے عام لوگوں کے پاس وسائل نہ ہوتے تھے ۔ موجودہ زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے صنعتی انفجار (industrial explosion) کی صورت میں معاشی وسائل کا سیلاب بہا دیا۔ آج حکومت کے تعاون کے بغیر ہر آدمی بڑے سے بڑا سرمایۂ حاصل کر سکتا ہے اور انتہائی بڑے بڑے کام انجام دے سکتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ آج ہندوستان میں یونیورسٹیوں کی مانند بہت سی بڑی بڑی دینی درس گاہیں قائم ہیں جو تمام ترغیر سرکاری تعاون کی بنیاد پر چل رہی ہیں ، جب کہ قدیم دور میں اس نوعیت کے غیر سرکاری اداروں کی مثال پانا سخت مشکل ہے۔ قدیم زمانہ میں دعوتی کام بہت محدود پیمانہ پر ہو سکتا تھا کیوں کہ اس زمانہ میں سفر کے لئے صرف حیوانات ہوتے تھے جو صرف قریب کی منزل تک انسان کو لے جاسکتے تھے۔ اس زمانہ میں پیغام رسانی کا کوئی بڑا وسیلہ نہ تھا۔ آج کمیونی کیشن کے انقلاب نے ساری صورت حال بدل دی ہے۔ آج آپ چند گھنٹوں میں دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچ سکتے ہیں۔ منٹوں کے وقفے میں اپنا پیغام دنیا کے کسی بھی حصہ میں پہنچا سکتے ہیں۔ پرنٹنگ پریس کے ذریعہ ایک کتاب کو کروڑوں کی تعداد میں چھاپ کر ہر گھر میں داخل کر سکتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page