Urdu book · دین و شریعت

دین و شریعت

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ جدید امکانات بھی آج بڑے پیمانہ پر دین کی اشاعت کے لئے استعمال کئے جارہے ہیں۔ اس مہم میں زیادہ تر مدارس دینیہ کے لوگ ہی براہ راست یا بالواسطہ طور پر شریک ہیں۔ میں خود اپنے آپ کو بھی اسی قافلہ مدارس کا ایک فرد سمجھتا ہوں۔ مذکورہ قسم کی بے شمار تبدیلیاں جو دنیا میں آئی ہیں وہ زیادہ تر غیر مسلم قوموں کے ذریعہ آئی ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان قوموں سے اللہ تعالیٰ نے بالواسطہ انداز میں اپنے دین کی خدمت کا کام لیا ہے۔ غالباً یہی وہ حقیقت ہے جس کا اظہار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر اس حدیث میں کیا تھا: ان اللہ يؤيد الدين بالرجل الفاجر (البخاری کتاب الجہاد، کتاب المغازی، باب غزوة خیبر) یعنی اللہ دینِ اسلام کی مدد فاجر شخص کے ذریعہ بھی کرے گا۔ امکانات و مواقع کا یہ سیلاب بلاشبہ علماء اسلام کے لئے ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ علماء کے گروہ میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے اس منصوبہ الٰہی کو سمجھا ۔ اور جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے بقدر امکان تجدید دین اور احیاء اسلام کا فریضہ ادا کرنے کی کوشش کی۔ میں اپنے آپ کو بھی انہی خادمانِ دین میں شمار کرتا ہوں۔ اللہ کی توفیق سے میں نے دور جدید کے تمام ذرائع کو دین کی اشاعت کے لئے استعمال کیا ہے— پریس، کانفرنس، ریڈیو، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، وغیرہ۔ میں مکمل طور پر دینی مدرسہ کی پیداوار ہوں، اس اعتبار سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میرا یہ پورا دوتی کام دینی مدارس کے تحت ظہور میں آنے والا کام قرار پاتا ہے۔ اس کا کریڈٹ سب سے پہلے مدارس دینیہ کو جاتا ہے اور اس کے بعد مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو۔ مدارس سنٹر ضرورت ہے کہ مدارس سنٹر کے نام سے ایک مرکزی ادارہ قائم کیا جائے۔ یہ سنٹر اس مقصد کو اجتماعی طور پر حاصل کرنے کی ایک کوشش ہوگی جس کو مختلف مدرسے انفرادی طور پر حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page