مدارس سینٹر
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ بحث جاری ہے کہ مدارس کے مروجہ نصاب پر نظر ثانی کر کے اس کو مطابق حال بنایا جائے۔ مگر عملاً اس کی طرف بہت کم پیش قدمی ہو سکی ہے۔ مدارس کے موجودہ نصاب میں قرآن اور سیرت اور تاریخ اسلام کا حصہ بہت کم پایا جاتا ہے۔ ضرورت ہے کہ نصاب کی اس کمی کو پورا کیا جائے۔ اسی طرح حدیث کو اصلاً حدیث کے طور پر نہیں پڑھایا جاتا بلکہ اس کو فقہ کے ذیل میں پڑھایا جاتا ہے۔ اس پہلو پر بھی دوبارہ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح موجودہ نصاب میں ”فرق ضالہ“ کے نام پر بہت سی چیزیں داخل نصاب ہیں۔ حالاں کہ یہ فرقے قدیم فرقے ہیں جو اب عملاً معدوم ہو چکے ہیں۔ ضرورت ہے کہ طلبہ کو اس کے بجائے آج کے گمراہ فرقوں کے بارے میں معلومات دی جائیں، نہ کہ گزرے ہوئے فرقوں کے بارے میں۔ اسی طرح معقولات کے نام پر جو کتابیں مدارس کے موجودہ نصاب کا جزء ہیں وہ اب عملاً غیر مفید ہو چکی ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس کے بجائے طلبہ کو جدید معقولات سے واقف کرایا جائے تاکہ وہ آج کے ذہن کے سامنے اسلام کی مدلل نمائندگی کر سکیں۔ اس قسم کی متعدد چیزیں ہیں جو موجودہ نصاب تعلیم پر نظر ثانی کا تقاضا کرتی ہیں۔ یہ نظر ثانی مدارس کے تعاون ہی کے ذریعہ انجام دی جاسکتی ہے۔ مدارس سنٹر کا ایک اہم کام یہ ہوگا کہ وہ اس نظر ثانی کے لئے حالات فراہم کرے۔ ۵۔ مدارس کے موجودہ نصاب کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ بڑی حد تک دعوت رخی (dawah-oriented) نصاب ہے۔ اس نصاب کو بنانے والوں کے ذہن میں غالباً یہ مقصد تھا کہ طلبہ کو اس طرح تیار کیا جائے کہ وہ مدارس سے فارغ ہو کر دعوت و تبلیغ کے کام کو موثر طور پر انجام دے سکیں۔ یہ بجائے خود ایک صحیح نہج تھا۔ مگر اب زمانہ اتنا بدل چکا ہے کہ عملی طور پر دیکھا جائے تو ہمارے مدارس ایسے مخاطبین کے لئے دعاة تیار کر رہے ہیں جن کا اب کہیں وجود نہیں۔ مثلاً یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader