مدارس سینٹر
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
نصاب طلبہ کو قدیم ”معتزلہ“ کے خلاف ذہنی طور پر مسلح کرتا ہے۔ مگر آج کے جو زندہ معتزلہ ہیں ان کے خلاف یہ طلبہ اپنے آپ کو تیار نہیں پاتے۔ اسی طرح قدیم ذوق کے مطابق طلبہ کو مناظرہ کے آداب پڑھائے جاتے ہیں حالانکہ آج مناظرہ کا طریقہ متروک ہو چکا ہے اور اس کی جگہ سنجیدہ ڈائیلاگ کا طریقہ دنیا میں رائج ہو گیا ہے، مگر ہمارے فارغین مدرسہ اس کے لئے تیار نہیں ہوتے کہ وہ جدید طرز کے سنجیدہ ڈائیلاگ میں حصہ لے سکیں۔ اسی طرح یہ فارغین مدرسہ قدیم طرز کی قیاسی منطق پر تیار ہوتے ہیں جب کہ آج دنیا میں سائنٹفک منطق کا دور آ چکا ہے جس سے وہ آشنا نہیں ہوتے، وغیرہ وغیرہ۔ ۶۔ نصاب کی تبدیلی کے ذیل میں ایک سوال یہ ہے کہ اس کے لئے مدرسین کہاں سے آئیں گے۔ مگر یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ اس معاملہ میں ہمیں موجودہ مدرسین ہی کو تیار کر کے استعمال کرنا ہے نہ کہ نئے مدرسین کو در آمد کرنا۔ یہ عین وہی طریقہ ہے جو یونیورسٹیوں میں عام طور پر رائج ہے۔ وہ یہ کہ جب بھی یونیورسٹی کے نصاب میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے یا کوئی نیا تقاضا سامنے آتا ہے تو اس کے لئے وہ نئے استاد لانے کے بجائے اساتذہ کی موجودہ ٹیم ہی کو مختلف طریقہ سے تیار کرتے ہیں۔ مثلاً ریفریشر کورس (refresher course) یا کریش کورس (crash course) چلاتا۔ ان کو باہر کی یونیورسٹیوں میں ٹریننگ کے لئے بھیجنا۔ اس مقصد کے لئے انھیں تدریسی کام سے باقاعدہ فراغت دی جاتی ہے تاکہ وہ دلجمعی کے ساتھ اپنے کو نئے تقاضوں کے مطابق تیار کر سکیں۔ سیکولر تعلیمی اداروں میں مسلسل یہ کوشش کی جاتی ہے کہ اساتذہ کے تدریسی معیار کو بڑھایا جائے۔ اس مقصد کے لئے انھیں مختلف قسم کے موقع دئے جاتے ہیں۔ مثلاً ریسرچ کے لئے باماشاہرہ چھٹی دینا۔ بیرونی سفروں کا انتظام کرنا۔ پروموشن وغیرہ کے ذریعہ ایسے محرک (incentive) فراہم کرنا جوان کے لئے اپنے آپ کو مسلسل تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوں، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader