مدارس سینٹر
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
۷۔ اس سلسلہ میں ایک کام یہ ہے کہ معہد العلماء یا اور کسی نام سے ایک شعبہ قائم کیا جائے جس کا مقصد عصری تقاضوں کے مطابق علماء کی تیاری ہو۔ منتخب نوجوان علماء متعین مدت کے لئے یہاں بلائے جائیں اور ان کو انگریزی زبان اور عصری معلومات سے بقدر ضرورت مسلح کیا جائے تا کہ وہ دورِ جدید میں اسلام کی مؤثر نمائندگی کر سکیں اور جدید اسلوب میں اسلام کا پیغام آج کے انسان تک پہنچا سکیں۔ اس سلسلہ میں یہاں میں اپنا ذاتی تجربہ بیان کروں گا۔ میرے اس تجربہ میں دوسرے لوگ بھی ایک عملی سبق پا سکتے ہیں۔ میں نے مدرسہ کی تعلیم کے زمانہ ہی میں ابتدائی انگریزی سیکھ لی تھی۔ لیکن انگریزی زبان میں اپنی استعداد کو بڑھانے اور اس کے ذریعہ جدید طبقہ تک اسلام کا پیغام پہنچانے کا جذبہ میری زندگی میں بعد کو شامل ہوا۔ اور آخر کار یہی میری زندگی کا مشن بن گیا۔ انگریزی کو دعوت کا ذریعہ بنانے کا جذبہ میرے اندر کیسے پیدا ہوا، اس کے مختلف اسباب ہیں۔ ان میں سے ایک بلاشبہ وہ ہے جو علماء اسلام سے تعلق رکھتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں بہت سے علماء کو یہ احساس ہوا کہ عصری تقاضوں کے مطابق اسلام کی خدمت کرنے کے لئے انہیں مغربی زبان بھی سیکھنا چاہئے۔ مثال کے طور پر مولانا شبلی نعمانی نے علی گڑھ میں پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی زبان سیکھنے کی کوشش کی اگرچہ وہ اس کو تکمیل تک نہ پہنچاتکے۔ میں مدرسۃ الاصلاح میں اپنی تعلیم کے زمانہ میں دیکھتا تھا کہ میرے استاد مولانا اختر احسن اصلاحی ڈکشنری کی مدد سے انگریزی کتاب پڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اگرچہ مجھے نہیں معلوم کہ ان کی یہ کوشش کہاں تک پہنچی۔ اس سلسلہ کا ایک سبق آموز واقعہ وہ ہے جو مولانا محمد قاسم نانوتوی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس واقعہ کو مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتاب سے لے کر ملخصاً یہاں نقل کیا جاتا ہے: ”حج کے سفر (۱۸۷۸ء) میں مولانا نانوتوی سے جہاز کے یورپین کپتان نے مذہبی سوالات کئے جن کا جواب ”ترجمان“ کے ذریعہ دیا گیا۔ کپتان آپ کے جوابوں سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader