Urdu book · دین و شریعت

مدارس سینٹر

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

غیر معمولی طور پر متاثر ہوا۔ مولانا نانوتوی نے اس کے بعد عزم کر لیا تھا کہ حج سے فارغ ہونے کے بعد ہندوستان پہنچ کر وہ خود انگریزی زبان سیکھنے کی کوشش کریں گے۔ مولانا نانوتوی کا احساس تھا کہ ترجمان کے بغیر براہ راست تقریر سے کپتان زیادہ متاثر ہو سکتا تھا۔ مطلب جس کا یہی ہو سکتا ہے کہ دوسروں تک دین کی دعوت پہنچانے کے لئے انگریزی جیسی زبانوں کے سیکھنے کو بھی حضرت والا نے اپنے ”دینی مجاہدات“ کی فہرست میں شامل کر لیا تھا“ (سوانح قاسمی از مولانا مناظر احسن گیلانی مطبوعہ دارالعلوم دیوبند، صفحہ ۲۹۹۔ ۳۰۰، جلد۔ دوم) اس قسم کے مختلف واقعات ہیں جن کے ذریعہ میرے اندر یہ داعیہ پیدا ہوا کہ مدرسہ کی تعلیم کے بعد انگریزی زبان کو سیکھوں اور جدید علوم کا مطالعہ کروں۔ تاکہ میں اپنی دعوتی ذمہ داریوں کو زیادہ مؤثر طور پر ادا کر سکوں۔ میں کبھی کسی انگریزی اسکول میں داخل نہیں ہوا مگر مدرسہ کی تعلیم کے بعد لمبی مدت تک ذاتی محنت کے ذریعہ میں نے انگریزی زبان سیکھی۔ میں اس قابل ہو گیا کہ براہ راست ہر قسم کی انگریزی کتاب کا مطالعہ کروں اور ان سے ضروری مواد حاصل کر سکوں۔ میں تقریباً چالیس سال سے ہندوستان کے اندر اور ہندوستان کے باہر انگریزی داں حلقوں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کی مسلسل کوشش کر رہا ہوں۔ عربی اور انگریزی دونوں زبان سے واقفیت حاصل کرنے ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ میں ایک بین اقوامی دعوتی مشن جاری کر سکا۔ اس دعوتی مشن کا آغاز تو بہت پہلے ہو چکا تھا لیکن انگریزی زبان کے اعتبار سے اس کا باقاعدہ آغاز ۱۹۸۳ میں ہوا جب کہ میں نے انگریزی ماہنامہ ”الرسالہ“ کا اجراء نئی دہلی سے کیا جو الحمد للہ اب تک جاری ہے اور ملک کے اندر اور ملک کے باہر انگریزی داں حلقوں میں دین کی اشاعت کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں کی تعداد میں انگریزی کتابیں چھپ کر عالمی سطح پر پھیل رہی ہیں حتیٰ کہ اب یہ دعوتی مشن انٹرنیٹ تک پہنچ چکا ہے۔ اور اس کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page