مدارس سینٹر
Urdu book, p. 159
By Maulana Wahiduddin Khan
پر انہوں نے بتایا کہ ہم کو وہاں جانے سے دل چسپی اس لئے ہے کہ ہم بھی دیو بندی ہیں۔ حکومت کے مذکورہ ذمہ دار کی بات چیت سے اندازہ ہوا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دیو بند شاید جنگ جوئی کی تربیت کا سینٹر ہے۔ افغانستان میں نیز ہندوستان کی سرحد پر جو تشدد عرصہ سے جاری ہے اس کی فکری تربیت کا مرکز شاید دیو بند ہے۔ ان کی یہ بات سن کر مجھے ہنسی آ گئی۔ میں نے کہا کہ دیو بندی تو میں بھی ہوں۔ میری تعلیم مدرسہ الاصلاح میں ہوئی۔ اس مدرسہ کا سنگ بنیاد دیوبند کے مولانا اصغر حسین نے رکھا تھا جو شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد تھے۔ پھر میں نے ان کو بتایا کہ دیوبندی یا دیوبندیت سے مراد وہ مسلک ہے جس میں اتباع سنت پر زور دیا جاتا ہے۔ اسی نسبت سے ان افغانی نوجوانوں نے اپنے کو دیو بندی بتایا۔ کیوں کہ افغانستان کے لوگ عرصہ دراز سے دینی تعلیم کے لئے دیو بند آتے رہے ہیں۔ اور وہ اپنے شرعی مسلک کے اعتبار سے دیوبند کے علماء پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس معاملہ کا سیاسی تشدد یا جنگ جوئی سے کوئی تعلق نہیں۔ میری اس وضاحت کے بعد وہ پوری طرح مطمئن ہو گئے۔ مدارس دینیہ کے خلاف اس قسم کی غلط فہمیاں بڑی تعداد میں ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ در اصل یہی غلط فہمیاں ہیں جن کی بنا پر مدارس کے خلاف طرح طرح کی باتیں کہی جاتی ہیں، مثلاً مدارس پر کنٹرول کرنے کے لئے قانون بنانا یا کچھ لوگوں کی طرف سے بھارتیہ کرن کا نعرہ لگایا جانا۔ یا کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ مدارس قومی یکجہتی یا نیشنل فکرید اک کرنے میں رکاوٹ ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ مدرسے جب تک قائم ہیں اس وقت تک ملک میں مجموعی ترقی نہیں ہو سکتی، کیوں کہ وہ مسلمانوں کو ملک کی مین اسٹریم میں داخل ہونے میں روک بنے ہوئے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ یہ الزامات بلا شبہ بے اصل اور بے بنیاد ہیں اور اگر سنجیدہ انداز میں کوشش کی جائے تو یقینی طور پر ان کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ مجوزہ مدارس سنٹر کا ایک ضمنی یا جزئی کام یہ بھی ہوگا کہ وہ مناسب انداز میں ان غلط فہمیوں کی تردید کرے۔ وہ بروقت ان کی حقیقت سے لوگوں کو واقف کرائے۔ غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ایک اسلامی کام ہے جس کو قرآن میں تبیین کہا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader