Urdu book · دین و شریعت

فکری روشنی

Urdu book, p. 164

By Maulana Wahiduddin Khan

تربیت دیتا ہے (المائدہ ۲۶) ۲۔ اسی طرح اگر کوئی صاحب ایمان اپنے آپ کو ایک ایسے جغرافیہ میں پائے جہاں ایسے لوگ بستے ہوں جو خدا کے دین سے بے خبر اور بے بہرہ ہیں تو اس کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو خدا کے دین سے باخبر بنائے۔ اگر وہ اپنے غیر مسلم پڑوسیوں پر دعوت کی تکمیل کئے بغیر انھیں چھوڑ کر ان کے باہر چلا جائے تو حضرت یونس علیہ السلام کی مثال میں اس کے لئے یہ تنبیہ ہے کہ ایسا کرنے کے بعد وہ اللہ کی پکڑ کی زد میں آجائے گا، صرف ذاتی عمل اس کو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا نہیں (الصافات ۱۴۲) ۳۔ اسی طرح اگر کوئی مصلح اپنے آپ کو ایسی حالت میں پائے جہاں اس کی قوم کے لوگ بظاہر ایک بُرائی میں مبتلا ہوں تو اس کے لئے حضرت ہارون علیہ السلام کی زندگی میں قابل عمل مثال موجود ہے۔ یعنی اس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ عواقب کی پرواہ کئے بغیر برائی کو مٹانے کے نام پر پُر شور تحریک شروع کردے۔ بلکہ اس کو یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کا اقدام خود ایک فتنہ تو نہیں بن جائے گا۔ اس کے اقدام کا نتیجہ یہ تو نہیں ہوگا کہ ایک چھوٹی بُرائی کو مٹانے کی کوشش میں زیادہ بڑی بُرائی سامنے آجائے۔ مثلا قوم کے اندر تفریق پیدا ہوجاتا۔ اگر یہ اندیشہ ہو کہ اس کی تحریک کے نتیجہ میں قوم کے لوگ دو گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے لڑنے لگیں گے تو بہتر ہے کہ بُرائی کو وقتی طور پر برداشت کرتے ہوئے خاموش اور حکیمانہ اصلاح کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ انقلابی تبدیلی کے بجائے تدریجی تبدیلی کے اصول پر عمل کیا جائے (طہ ۹۲) ۴۔ کوئی ایمانی گروہ اگر کسی قوم کو دعوت دے اور وہ اس کو قبول نہ کرتے ہوئے سرکشی کا رویہ اختیار کرے تو حضرت نوح علیہ السلام کی مثال بتاتی ہے کہ اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ سرکشی کا ابتدائی تجربہ ہوتے ہی وہ اس کے خلاف اللهم دمر ديارهم جیسی بددعائیں کرنے لگے۔ اس قسم کی بدعا کرنے کے لئے اس کو بہت لمبی مدت تک انتظار کرنا چاہئے (العنکبوت ۱۴)۔ ۵۔ اسی طرح اگر کوئی ایسا زمانہ آجاۓ جب کہ لوگوں کے اندر اسلامی صفات باقی نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page