فکری روشنی
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
رہیں اور دینی کام کے لئے اعلیٰ افراد کار ملنا بند ہو جائیں تو ایسے حالات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمونہ بتاتا ہے کہ بگڑ کے ماحول سے الگ جا کر فطری ماحول میں تعلیم و تربیت کے ادارے قائم کئے جائیں تاکہ وہاں ایک نئی نسل تیار ہو اور وہ دینی ذمہ داریوں کو درست طور پر انجام دے سکے۔ (ابراہیم ۷۳) ۶۔ اسی طرح اگر کوئی مصلح اپنے آپ کو ایک ایسی امت کے اندر پائے جو ایمانی اور اخلاقی زوال کا شکار ہو گئی ہو تو حضرت مسیح علیہ السلام کی مثال بتاتی ہے کہ اس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ قوم کو فضائل کی داستانیں سنا کر فرضی خوش فہمی میں مبتلا کرے یا تاریخی عظمتوں کو بیان کر کے ان کے اندر فخر کا جذبہ ابھارے۔ اس کے برعکس اس کو عید اور تنبیہ کی زبان میں قوم کو جھنجھوڑنا چاہئے تا کہ اس کے اندر اپنی کمی کا احساس پیدا ہو اور وہ اپنی اصلاح میں سرگرم ہو جائے (المائدہ ۷۸) ۷۔ اسی طرح اگر کسی زمانہ میں اہلِ ایمان کے لئے یہ موقع آئے کہ وقت کا غیر مسلم حکمراں انہیں اقتدار میں شرکت کی پیش کش کرے اور انہیں یہ موقع دے کہ وہ شریک اقتدار ہو کر اصلاح کا کام کر سکیں تو حضرت یوسف علیہ السلام کی مثال یہ بتاتی ہے کہ اہلِ ایمان کو چاہئے کہ وہ ایسی پیش کش کو قبول کر لیں ، وہ کسی مفروضہ اندیشہ کی بنا پر اس کو قبول کرنے سے انکار نہ کریں (یوسف ۵۲) ایک جائزہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو کتاب مہجور بنا دیا ہے، یعنی چھوڑی ہوئی کتاب (الفر قان ۳۰) اس سے مراد لفظی طور پر قرآن کو چھوڑنا نہیں ہے بلکہ معنوی طور پر اس کو چھوڑنا ہے۔ لفظی ترک نہ قرآن کے ساتھ ممکن ہے اور نہ کسی دوسری مذہبی کتاب کے ساتھ۔ اس سے مراد دراصل یہ ہے کہ قرآن کو لفظی تلاوت کی کتاب بنا دیا جائے، وہ لوگوں کے لئے غور و فکر اور اخذ معانی کی کتاب نہ رہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ عین یہی صورت حال پیش آتی ہے۔ وہ قرآن کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader