Urdu book · دین و شریعت

فکری روشنی

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

صرف لفظی طور پر پکڑے ہوئے ہیں۔ معانی کے اعتبار سے انہوں نے قرآن کو مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے۔ اس کی آخری حد یہ ہے کہ کچھ لوگ جو بظاہر قرآن کی پیروی کی بات کرتے ہیں وہ بھی خود اپنی تفسیر قرآن کی پیروی کے داعی ہیں نہ کہ حقیقۃ قرآن کی پیروی کے داعی۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ موجودہ مسلمانوں کے لئے قرآن فکر صحیح کا ماخذ نہ رہا۔ ان کی ذہنی فضا قرآن کے ذریعہ نہیں بنی بلکہ دوسرے اسباب و حالات کے تحت بنی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے حالات میں قرآن کی رہنمائی پانے سے قاصر رہے ہیں وہ اپنے خود ساختہ ذہن کے تحت مناظرہ بازی اور طرح طرح کے لڑائی جھگڑے میں مشغول رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اس معاملہ کی مثالیں ہر روز سامنے آتی ہیں۔ مثلاً ایک ہندوستانی مسلمان نے لکھا کہ آزادی کے بعد ہمارے لئے دو سیاسی نظاموں میں سے کسی ایک سیاسی نظام کے انتخاب (option) کا مسئلہ ہے۔ یعنی ہندو ازم یا سیکولرزم۔ یہاں ہمیں سیکولرزم کو قبول کرنا چاہئے۔ کیوں کہ وہ موجودہ حالات میں ہمارے لئے اھون البلیتین کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پر ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ ہندو ازم بھی کفر و باطل ہے اور سیکولر زم بھی کفر و باطل۔ ایسی حالت میں یہ اھون الکفرین اور اھون الباطین کا مسئلہ ہے نہ کہ اھون البلیتین کا مسئلہ۔ پھر انہوں نے اس نقطۂ نظر کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا ہے کہ دو کفروں اور دو باطلوں میں بھی کیا کوئی اھون کفر اور اھون باطل ہوا کرتا ہے۔ یہ نادانی کا ایک تبصرہ ہے جس کا سبب فکر صحیح کی روشنی سے محرومی ہے۔ مذکورہ نقطۂ نظر میں ہندو ازم سے مراد ہندو ازم باعتبار نتیجہ ہے اور سیکولرزم سے مراد سیکولرزم باعتبار نتیجہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں اھون البلیتین سے مراد دو عقیدوں میں سے کسی ایک عقیدہ کو اہون قرار دینا نہیں بلکہ دو عملی نتیجوں میں سے کسی ایک عملی نتیجہ کو اہون قرار دینا ہے۔ یعنی یہ اھون العقیدتین کا معاملہ نہیں بلکہ یہ اھون النتیجتین کا معاملہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page