Urdu book · دین و شریعت

فکری روشنی

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

جیسا کہ معلوم ہے ، کعبہ کی موجودہ عمارت اساس ابراہیمی پر نہیں ہے۔ بلکہ وہ اساس مشرکین پر ہے۔ صحیح البخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی عمارت تصحیح کرنا چاہتا مگر فتنہ کے اندیشہ سے اس کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ کعبہ کی عمارت کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑنا اھون الاساسین کی بنیاد پر نہ تھا بلکہ اھون النتیجتین کی بنیاد پر تھا۔ اسی پر دوسرے معاملات کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔ قرآن میں دور قدیم کے انبیاء کے حالات کا تذکرہ نہایت اہم مصلحت کی بنیاد پر ہوا تھا۔ اور وہ مصلحت یہ تھی کہ اہل ایمان ہر قسم کے پیغمبرانہ ماڈل کو جان لیں اور پھر اپنے حالات کے اعتبار سے وہ اس سے رہنمائی لیتے رہیں۔ مگر بعد کے زمانہ میں فضیلت انبیاء کے عقیدہ نے سرے سے اس ذہن ہی کو ختم کر دیا کہ مسلمان دوسرے انبیاء کو بھی اپنے لئے نمونہ سمجھیں اور ان سے حسب ضرورت رہنمائی حاصل کریں۔ احادیث میں کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید کے طور پر اس سے منع فرمایا کہ اہل اسلام اس بحث میں پڑیں کہ نبیوں میں کون افضل ہے اور کون غیر افضل۔ اس تاکید کی کم از کم ایک اہم مصلحت یہ تھی کہ اس طرح کی بحثوں سے جو ذہن بنتا ہے وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ دوسرے انبیاء غیر افضل ہیں اس لئے ان کا نمونہ افضل نہیں ہو سکتا۔ انبیاء کے درجات میں یقیناً فرق ہے مگر اس فرق کا تعلق اللہ سے ہے نہ کہ بندوں سے۔ ابن کثیر کے الفاظ میں: لیس مقام التفضيل اليکم و انماھو الى الله عز وجل (تفسیر بن کثیر ار ۳۰۴) یعنی تفصیل کے مقام کا تعلق تم سے نہیں ہے بلکہ وہ اللہ عزوجل کے لئے ہے۔ جن لوگوں نے پیغمبروں کے معاملہ میں افضل اور غیر افضل کی بحث کو چھیڑا، ان کے بارہ میں تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے ذہن میں یہ حقیقت زندہ شعور کے طور پر باقی نہ رہی کہ تمام انبیاء یکساں طور پر مطلوب ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page