Urdu book · دین و شریعت

تفسیر بالرائے

Urdu book, p. 174

By Maulana Wahiduddin Khan

اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ الدین کو قائم کرو اور اس میں متفرق نہ ہو (الشوریٰ ۱۳) چونکہ دین کی مشترک پیروی صرف اساسی دینی تعلیمات ہی میں ہو سکتی ہے اس لئے یہاں صرف اساسی دینی تعلیمات کو اقامت کے تحت سمجھا جائے گا۔ تمام شرائع کو اس کے تحت لینے کی صورت میں تفرق لازم آئے گا، یعنی وہی چیز جس سے آیت میں منع کیا گیا ہے۔ ۴۔ قرآن میں اہل ایمان کو حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخيل ترهبون به عدو الله و عدوكم وآخرين من دونهم لا تعلمونهم الله يعلمهم (الانفال ٦٠) یعنی اور ان کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے تیار رکھو قوت اور پلے ہوئے گھوڑے کہ اس سے تمہاری ہیبت رہے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور ان کے علاوہ دوسرے پر بھی جن کو تم نہیں جانتے۔ اللہ ان کو جانتا ہے۔ موجودہ زمانے کے ایک عرب مفسر قرآن نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اعداد قوت کا مقصد تحریر الانسان ہے۔ اہل ایمان کو طاقت کی فراہمی کا حکم اس لیے دیا گیا تا کہ وہ ساری دنیا کے انسانوں کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کرائیں۔ مثلاً کیمو نزم، نازی ازم، سیکولر زم اور زائینزم (صیہونیت) وغیرہ کی غلامی سے نجات دلانا۔ آیت کی یہ تفسیر بظاہر ایک انقلابی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔ مگر یقینی طور پر یہ تفسیر بالرائے ہے۔ مفسر نے قرآن کے الفاظ پر غور کیے بغیر اپنے ذہن میں موجود خیالات کو آیت کی تفسیر میں شامل کر دیا۔ آیت کے الفاظ پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس کے مطابق ، اعداد قوت کا مقصد ارہاب عدو ہے یعنی دشمن کو ہیبت زدہ رکھنا تا کہ وہ اہل ایمان کے خلاف جارحیت کا حوصلہ نہ کر سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آیت میں اعداد قوت کا حکم دفاعی مقصد کے تحت دیا گیا ہے، مگر مذکورہ مفسر نے اس کو اقدامی معنیٰ میں لے لیا۔ جو آیت دوسروں کی جارحیت سے بچاؤ کے مسئلہ سے تعلق رکھتی تھی، اس کو اس معنی میں لے لیا کہ مسلمان خود جارحانہ کارروائیاں کر کے دوسروں کو زیر کریں اور ان کو اپنا سیاسی تابع بنائیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page