تفسیر بالرائے
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
۵۔ نظیر اکبر آبادی اردو کے مشہور شاعر ہیں وہ دہلی میں ۱۷۳۵ء میں پیدا ہوئے اور ۱۸۲۰ء میں ان کی وفات ہوئی۔ انہوں نے ”روٹی“ کے مسئلہ سے پریشان آدمی کی نفسیات کو بتاتے ہوئے کہا تھا: ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج میں جانتے بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں یہ شعر اس معاملہ کی ایک مثال ہے کہ کس طرح ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کے ذہن میں کوئی خیال بسا ہوا ہو تو تمام خارجی واقعات اس کے لئے اس کی اسی ذہنی صورت میں ڈھل جاتے ہیں۔ یہی معاملہ قرآن میں تفسیر بالرائے کا بھی ہے۔ تفسیر بالرائے کا مطلب ہے۔ قرآن کی تفسیر خود قرآن کی روشنی میں کرنے کے بجائے اپنے ذہن میں بسے ہو ۔ خیالات کی روشنی میں کرنا۔ مثلاً، قرآن میں یہ انتباہ دیا گیا ہے کہ اہل ایمان اپنے آپ کو اس سے بچائیں کہ وہ قساوت میں مبتلا ہو کر خشوع سے خالی ہو جائیں۔ اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے کہ: کیا ایمان والوں کے۔ وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں۔ اور اس حق کے آگے نازل ہو چکا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر ! مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے، اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ جان لو کہ اللہ زمین زندگی دیتا ہے اس کی موت کے بعد، ہم نے تمہارے لئے نشانیاں بیان کردی ہیں، تاکہ تم سمجھ (الحديد ۱۶۔۱۷) قرآن کے اس حصہ میں واضح طور پر اہل ایمان کے ایک داخلی مسئلہ کا ذکر ہوا ہے۔ و کہ طول آمد کی بنیاد پر لوگوں کے اندر قلبی قساوت پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجہ میں ان کے ا سے خشوع کی کیفیت نکل جاتی ہے۔ امت کی بعد کی نسلوں میں جب یہ داخلی مسئلہ پیدا ہو تو اس کا حل یہ بتایا گیا ہے کہ زمین جس طرح کسانی عمل کر کے دوبارہ زرخیز کی جاتی ہے اسی طرح امت کے افراد میں دا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader