Urdu book · دین و شریعت

تفسیر بالرائے

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

اصلاح کر کے ان کے اندر دوبارہ خشوع کی کیفیت پیدا کی جائے جو دین خداوندی کی اصل ہے۔ یہ قرآن کی مذکورہ آیت کی وہ تفسیر ہے جو اس کے الفاظ سے براہ راست طور پر نکلتی ہے۔ مگر ایک صاحب جن کے اوپر خارجی دشمنوں کا غلبہ تھا، ان کے ذہن میں اس آیت کا ایک اور مفہوم ڈھل گیا۔ انہوں نے اس داخلی حکم کو خارجی معنی میں لیتے ہوئے اس کی یہ تفسیر کر دی (اس سے مراد مسلمانوں کا وہ کمزور گروہ ہے جو) آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کہ کفر کی تمام طاقتیں اسلام کو مٹا دینے پر تلی ہوئی ہیں۔ چاروں طرف سے انہوں نے اہل ایمان کی مٹھی بھر جماعت پر نرغہ کر رکھا ہے، عرب کی سرزمین میں جگہ جگہ مسلمان تختہ مشق ستم بنائے جا رہے ہیں، ملک کے گوشے گوشے سے مظلوم مسلمان سخت بے سروسامانی کی حالت میں پناہ لینے کے لئے مدینہ کی طرف بھاگے چلے آ رہے ہیں۔ مخلص مسلمانوں کی حکمران مظلوموں کو سہارا دیتے دیتے ٹوٹی جا رہی ہے اور دشمنوں کے مقابلے میں بھی یہی مخلص مومن سر بکف ہیں، مگر یہ سب کچھ دیکھ کر بھی ایمان کا دعویٰ کرنے والا یہ گروہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔ اس پر ان لوگوں کو شرم دلائی جا رہی ہے کہ تم کیسے ایمان لانے والے ہو؟ اسلام کے لئے حالات نزاکت کی اس حد کو پہنچ چکے ہیں۔ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ کا ذکر سن کر تمہارے دل پگھلیں اور اس کے دین کے لئے تمہارے دلوں میں ایثار و قربانی اور سرفروشی کا جذبہ پیدا ہو۔ کیا ایمان لانے والے ایسے ہی ہوتے ہیں کہ اللہ کے دین پر بُرا وقت آئے اور وہ اس کی ذراسی ٹیس بھی اپنے دل میں محسوس نہ کریں؟ اللہ کے نام پر انہیں پکارا جائے اور وہ اپنی جگہ سے ہلیں تک نہیں۔ اللہ اپنی نازل کردہ کتاب میں خود چندہ کی اپیل کرے، اور اسے اپنے ذمہ قرض قرار دے، اور صاف صاف یہ بھی سنا دے کہ ان حالات میں جو اپنے مال کو میرے دین سے عزیز تر رکھے گاوہ مومن نہیں بلکہ منافق ہوگا، اس پر بھی ان کے دل نہ خدا کے خوف سے کانپیں، نہ وہ اس کے حکم کے آگے جھکیں (۳۱۴/۵ - ۳۱۴)۔ قرآنی آیت کے اصل الفاظ کو سامنے رکھئے تو معلوم ہوگا کہ اس پر جوش تفسیر کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک خود ساختہ تقریر ہے نہ کہ قرآنی آیت کی تفسیر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page