تفسیر بالرائے
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
تفسیر بذریعہ تدبر عام طور پر تفسیر کی دو قسمیں سمجھی جاتی ہیں۔ تفسیر ماثور، اور تفسیر بالرائے۔ مگر تفسیر کی ایک اور قسم ہے جس کو تفسیر بذریعہ تدبر کہا جا سکتا ہے۔ احادیث و آثار اور اقوال سلف کی روشنی میں قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرنا، بلاشبہ بہت اہم اور ضروری ہے۔ مگر قرآن کے عجائب کو مزید دریافت کرنے کے لئے ہر دور میں اس پر غور و تدبر کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جائز دائرے میں اس کا سلسلہ کبھی بند نہیں ہوگا۔ یہاں قرآن سے ایک مثال دی جاتی ہے جس سے یہ معاملہ مزید واضح ہو جاتا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۱۲ میں حضرت یوسف کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت یوسف کو مصر کے ارضی خزائن پر حاکم مقرر کیا گیا۔ قحط کے زمانہ میں ان کے خصوصی انتظام کے تحت لوگوں کو غلہ فراہم کیا جانے لگا۔ اسی زمانہ میں غلہ لینے کے لئے ان کے بھائی کنعان سے مصر آئے۔ اور غلہ حاصل کر کے روانہ ہوئے۔ پھر یہ واقعہ ہوا کہ دربار کے کارکنوں نے حضرت یوسف کے چھوٹے بھائی بن یامین کے اونٹ پر لدے ہوئے غلہ سے ایک شاہی سامان بر آمد کیا۔ اس کے بعد بن یامین کو چوری کے الزام میں ماخوذ کر کے حضرت یوسف کے حوالے کر دیا گیا۔ یہاں قرآنی آیتوں کی تفسیر عام طور پر یہ کی جاتی ہے کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی بن یامین کو پہچان کر انہیں اپنے پاس روکنا چاہا مگر چونکہ وہ اپنی شخصیت کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے یہ تدبیر کی کہ جب بھائیوں کو غلہ دیا جانے لگا تو ان کے حکم سے ایک شاہی سامان (سقایہ) بن یامین کے سامان میں رکھ دیا گیا پھر جب وہ لوگ اپناغلہ لے کر جانے لگے تو نعوذ باللہ حضرت یوسف نے یہ کیا کہ قافلے کو روک کر ان کے سامان کی تلاشی کروائی۔ پھر جب منصوبہ کے مطابق، شاہی سقایہ بن یامین کے سامان سے نکل آیا تو انہوں نے بن یامین کو نعوذ باللہ چور قرار دے کر اپنے پاس روک لیا اور بقیہ بھائیوں سے کہا کہ تم لوگ واپس جاؤ۔ یہ تفسیر واضح طور پر ایک پیغمبر کے اخلاق کو داغدار کرتی ہے۔ مگر جب قرآن کی متعلق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader