تفسیر بالرائے
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
آیتوں کا گہر امطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ تفسیر کے علاوہ یہاں ایک اور زیادہ تفسیر موجود ہے۔ اس دوسری تفسیر میں حضرت یوسف مکمل طور پر بری الذمہ قرار پاتے ہیں۔ یہ دوسری تفسیر سورۃ یوسف (رکوع ۹، آیت ۷۰-۷۶) کے گہرے مطالعہ سے معلوم ہوتی ہے۔ ان آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ حضرت یوسف نے جب ان کا سامان سفر درست کیا تو اپنے بھائی بن یامین کے سامان میں اپنا سقایہ (پینے کا پیالہ) رکھ دیا پھر جب بھائیوں کا یہ قافلہ روانہ ہوا تو در باریوں کو کسی وجہ سے اپنا صواع (ناپنے کا پیمانہ) دکھائی نہیں دیا۔ چنانچہ انہوں نے قافلہ والوں کو پکار کر روکا اور کہا کہ ہم کو شبہ ہے کہ تم نے ہمارا (چاندی کا صواع چرا لیا ہے۔ چنانچہ قافلہ کو روک کر ان کے سامان کی تلاشی لی گئی۔ آخر کار حضرت یوسف کے بھائی بن یامین کے سامان سے وہ بر آمد ہو گیا۔ پھر کنعان کے قانون کے مطابق بن یامین کو پکڑ کر حضرت یوسف کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح حضرت یوسف کو اپنا وہ بھائی مل گیا جس کو وہ اپنے پاس روک لینا چاہتے تھے۔ ان آیتوں کے الفاظ پر غور کیجئے تو ایک بہت بامعنی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ حقیقت عربی قاعدہ کے مطابق، ضمیر کے فرق میں چھپی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی کے سامان میں جو چیز رکھی وہ سقایہ (۷۰) تھا۔ یعنی ایک ایسی چیز جو عربی قاعدے کے مطابق، مونث ہے مگر دربار کے کارکنوں نے قافلے والوں کی تلاشی کے بعد ان کے سامان میں سے جو چیز بر آمد کی اس کو قرآن میں ضمیر مذکر کے بجائے ضمیر مؤنث (ثم استخر جھا) کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی ضمیر ’ہ‘ کی بجائے ’ھا‘۔ ضمیر کے اس فرق پر غور کرنے سے معاملہ کی جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی کے سامان میں برادرانہ محبت کے تحت زاد راہ کے ساتھ اپنا پانی پینے کا پیالہ بھی رکھ دیا تھا۔ در باری کارکن اس سے باخبر تھے۔ البتہ اس دوران دربار کی ایک اور زیادہ بڑی چیز، صواع (غلہ ناپنے کا پیمانہ) سامانوں میں دب کر بظاہر گم ہو گیا۔ جلدی میں در باری کارکنوں کا دھیان قافلے والوں کی طرف گیا اور انہوں نے ان پر شبہ کرتے ہوئے انہیں روکا اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader