Urdu book · دین و شریعت

تالیف قلب

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

تالیفِ قلب (دلجوئی) کا تعلق صرف زکوٰۃ کے مال سے نہیں ہے۔ اس کو زکوٰۃ کی 8 مدوں میں سے ایک مد قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ مدِ عوگر وہ کی آخری حد تک رعایت کرو۔ حتیٰ کہ ان کی دلجوئی کے لئے اگر زکوٰۃ کے اموال سے دینا ہو تو اُس میں سے بھی انہیں دو۔ تالیفِ قلب آدابِ دعوت کا ایک عام اصول ہے۔ اس کا تعلق ہر اس پہلو سے ہے جو مدعو کے دل میں اسلام کے لئے نرم گوشہ (soft corner) پیدا کرنے والا ہو۔ قرآن وسنت میں اس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ مثلاً حضرت موسیٰ کا فرعون سے نرم زبان میں کلام کرنا (طٰہ ۴۳)، پیغمبروں کا اپنی مخاطب قوم سے یہ کہنا کہ ہم تو تمہاری ایذاؤں پر صبر ہی کریں گے (ابراہیم ۱۲) مخالف لوگوں سے موعظت حسنہ (النحل ۱۲۵)، وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی تو آپ نے بنو ہاشم کے لوگوں کو اپنے گھر پر بلایا تاکہ انہیں توحید کا پیغام دیں۔ اس موقع پر آپ نے پہلے ان کی تواضع کی اور انہیں دودھ پلایا۔ جب وہ اس سے فارغ ہو گئے تو اس کے بعد آپ نے انہیں نبوت کا پیغام دیا۔ یہ بھی مدعو کے حق میں تالیفِ قلب کی ایک صورت تھی۔ (مسند احمد، الجزء الاول، صفحہ ۱۵۹) تالیفِ قلب دراصل ایک جامع حکم ہے جس کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً ایک بدو مدینہ کی مسجد نبوی میں آیا۔ اُس نے مسجد کے اندر پیشاب کر دیا۔ لوگ اس کو مارنے کے لئے دوڑے تو آپ نے لوگوں کو منع کر دیا اور بدو کو زجر و توبیخ کے بغیر واپس کر دیا۔ یہ بھی تالیفِ قلب کی ایک صورت تھی۔ اسی طرح قبیلۂ دوس کے طفیل بن عمرو الدوسی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد وہ اپنی قوم کی طرف واپس گئے اور اس کو اسلام کی دعوت دی۔ مگر قوم نے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ ان کو ستایا اور سرکشی کا معاملہ کیا۔ وہ دوبارہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور قبیلہ کی شکایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلۂ دوس کے حق میں دعا کی اور طفیل بن عمر الدوسی سے کہا کہ تم اپنی قوم کی طرف واپس جاؤ، اس کو اسلام کی طرف دعوت دو اور اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page