تالیف قلب
Urdu book, p. 183
By Maulana Wahiduddin Khan
کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو(اررجع الى قومك فادعهم وارفق بهم)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت بھی مدعو کے حق میں تالیف قلب کی ایک مثال ہے۔ (سیرت ابن ہشام، الجزء الاول، صفحه ۴۰۹) جو لوگ مؤلفۃ القلوب کے حصہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد منقطع یا منسوخ مانتے ہیں ان کی اس رائے کی ایک خاص بنیاد حضرت عمر فاروق کا ایک واقعہ ہے۔ ابن ہمام کی روایت ہے کہ عیینہ اور اقرع خلیفہ ابو بکر صدیق کے پاس آئے اور ایک زمین کی مانگ کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس سے پہلے تالیف قلب کے طور پر کچھ مال دیا تھا۔ ان کی مانگ پر ان کے لیے حضرت ابو بکر نے ایک تحریر لکھ دی۔ حالانکہ یہ دونوں مدینہ کے صاحب ثروت افراد تھے۔ یہ دونوں جب باہر آئے تو ان کی ملاقات حضرت عمر فاروق سے ہوئی۔ حضرت عمر نے تحریر کو لے کر پھاڑ دیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ اس کے بعد یہ معاملہ خلیفہ ابو بکر صدیق کے سامنے آیا۔ حضرت عمر نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چیز تم کو تالیف قلب کے لیے دی تھی۔ اب اللہ نے اسلام کو طاقتور بنا دیا ہے اور اس کو تم سے بے نیاز کر دیا ہے۔ حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کی اس رائے سے اتفاق کیا۔ (التفسیر المظہری ۴/۲۳۶)۔ اس واقعہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تالیف قلب کا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔ اصل یہ ہے کہ تالیف قلب کے لیے جو مال دیا جاتا ہے وہ مؤلفۃ القلوب کے مطالبہ پر نہیں دیا جاتا بلکہ حاکم کی اپنی صوابدید پر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ مذکورہ دونوں اشخاص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ذاتی فیصلہ کے تحت کچھ مال دیا تھا کہ ان کے مطالبہ کی بنیاد پر۔ اس کے بعد جب حضرت ابو بکر کی خلافت کا زمانہ آیا تو ان دونوں صاحبان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے خود اپنی طرف سے یہ مانگ کی کہ ہم کو فلاں زمین عطیہ میں دی جائے۔ یہ ایک قسم کا استحصال (exploitation) تھا۔ حضرت عمر فاروق نے معاملہ کی اس نوعیت کو سمجھا اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader