Urdu book · دین و شریعت

تالیف قلب

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

درمیان میں پڑ کر دونوں صاحبان کو اس سے روک دیا کہ وہ مسلمانوں کے اموال کو غلط طور پر حاصل کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ تالیفِ قلب اسلام کا ایک مستقل اصول ہے۔ وہ اپنی مختلف صورتوں میں ہر حال میں جاری رہتا ہے خواہ امن کے حالات ہوں یا جنگ کے حالات، اور خواہ اہل اسلام بے اقتدار ہوں یا اقتدار کی حالت میں ہوں، کسی بھی حال میں تالیفِ قلب کا حکم ساقط یا موقوف نہیں ہوتا۔ دعوت الی اللہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، خیر خواہی کا ایک عمل ہے (الاعراف ۷۹)۔ یہ دراصل انسانیت کے ساتھ خیر خواہی کا جذبہ ہے جو ایک مومن کو مجبور کرتا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کو اللہ کی رحمت کے سائے میں لانے کی کوشش کرے۔ اسی خیر خواہی کی بنا پر مومن یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنی بات اس طرح مؤثر انداز میں کہے کہ وہ سننے والے کے دل میں اتر جائے (النساء ۶۳)۔ یہی جذبہ داعی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے مخاطب کی زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کرے تاکہ پیغام رسانی کا ماحول بگڑنے نہ پائے (ابراہیم ۱۲)، وغیرہ۔ اس قسم کی مختلف چیزیں گویا آدابِ دعوت سے تعلق رکھتی ہیں۔ دعوت کے انہی آداب میں سے ایک متعین چیز وہ ہے جس کو تالیف قلب کہا جاتا ہے، یعنی مدعو کی دل جوئی اور اس کی رعایت۔ جس طرح ایک سچا تاجر اپنے گاہک کی آخری حد تک رعایت کرتا ہے تاکہ اس کے ساتھ مستحکم تجارتی تعلقات قائم ہوں۔ اسی طرح داعی ہر ممکن طریقہ سے اپنے مدعو کی دل جوئی کرتا ہے تاکہ وہ اس کے دعوتی پیغام کی طرف پوری طرح راغب ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تالیفِ قلب دعوت و تبلیغ کا مستقل اصول ہے، کسی بھی حال میں اور کسی بھی صورت میں اس کو ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ تالیف قلب کے حکم کا تعلق ضعف کی حالت سے ہے۔ ضعف کی حالت ختم ہوتے ہی تالیف قلب کا حکم ختم ہو جاتا ہے، ایسے لوگوں نے یہ رائے محض

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page