Urdu book · دین و شریعت

تالیف قلب

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

ذاتی قیاس کی بنیاد پر قائم کر لی ہے۔ انہوں نے اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر زیادہ غور نہیں کیا۔ اگر وہ اس پہلو سے آپ کی سنت پر غور کرتے تو وہ ہر گز ایسی رائے قائم نہ کرتے۔ ہجرت کے آٹھویں سال جب مکہ فتح ہوا تو اس کے بعد اسلام مکمل طور پر اقتدار کی حالت میں پہنچ گیا تھا۔ مگر اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مکہ کے مشرکین فتح کے بعد آپ کے پاس لائے گئے۔ اس وقت وہ لوگ بالکل بے بس تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ تالیف قلب کا یہ اعلیٰ معاملہ کیا کہ آپ نے اُن سب کو یہ کہہ کر آزاد کر دیا کہ : لا تثريب عليكم اليوم، اذهبوا فأنتُم الطلقاء۔ یہ بلاشبہ تالیف قلب کا ایک معاملہ تھا اور اس کا یہ شاندار نتیجہ نکلا کہ یہ سب کے سب لوگ اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئے۔ اسی طرح غزوہ حنین کی مثال لیجئے۔ اس غزوہ میں فریقِ مخالف کو شکست ہوئی۔ ان کے چھ ہزار آدمی گرفتار کر لیے گئے۔ اس موقع پر آپ نے ان کے ساتھ یہ فیاضانہ سلوک کیا کہ ان سب کو بلا شرط آزاد کر دیا اور اسی کے ساتھ ان میں سے ہر ایک کو اموال بھی دیے ۔ یہ واقعہ فتح مکہ کے بعد پیش آیا اور وہ بلاشبہ تالیف قلب کا ایک معاملہ تھا۔ اسی طرح کی مثالیں افراد کے معاملہ میں بھی ہیں۔ مثال کے طور پر سہیل بن عمرو نے فتح مکہ سے پہلے اسلام کے خلاف سخت کارروائی کی تھی مگر فتح مکہ کے بعد جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان کے ساتھ نہایت نرمی اور شرافت کا سلوک کیا۔ چنانچہ کلمہ شہادت ادا کر کے وہ اسلام میں داخل ہو گئے، وغیرہ۔ تالیف قلب کے لیے مال دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ مال ہمیشہ نقد کی صورت میں دیا جائے گا۔ اس معاملہ کا تعلق حالات پر ہے۔ حالات کے اعتبار سے تالیف قلب کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔ اس کی کوئی ایک ہی متعین صورت نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page