تاریخ کے دو دور
Urdu book, p. 194
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم زمانہ میں شرک کا یہ رواج محض ایک سادہ رواج نہ تھا بلکہ اس نے ایک قسم کے جبری رواج کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔ شرک میں جبر کا یہ پہلو اس طرح شامل ہوا کہ قدیم زمانہ کے بادشاہوں اور سرداروں نے لوگوں کے اوپر اپنا اقتدار قائم کرنے کے لئے اسی کو اپنی سیاست کی بنیاد بنالیا۔ اس زمانہ میں حکمران سے وفاداری کا معیار یہ تھا کہ رعایا کا مذہب بھی وہی ہو جو حکمران کا مذہب ہے۔ اسی کو ایک عربی مقولہ میں اس طرح کہا گیا ہے کہ : الناس علی دین ملوکهم (لوگ اپنے بادشاہوں کے مذہب پر ہوتے ہیں)۔ اس سیاسی اور تمدنی ماحول میں فطری طور پر مذہبی جبر کا نظام قائم ہوا۔ لوگ مجبور تھے کہ ریاست کے مذہب کو اختیار کریں۔ ریاست کے مذہب کے سوا کوئی اور مذہب اختیار کرنا ریاست سے بغاوَت کے ہم معنی سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ ایسے لوگوں کو سخت سزا دی جاتی۔ قدیم تاریخ بڑے پیمانہ پر مذہبی ایذار سانی (religious persecution) کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ قدیم دور کے تمام پیغمبروں کا مشن یہ تھا کہ انسان کو شرک سے ہٹا کر توحید کی طرف لائیں۔ مگر تقریباً ہر پیغمبر کے ساتھ یہ ہوا کہ قدیم مشرکانہ نظام جارحیت کی حد تک ان کا مخالف ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم دور میں توحید کی پیغمبرانہ تحریک فکری مرحلہ تک محدود رہی، وہ عملی انقلاب تک نہ پہنچ سکی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ تاریخ کا یہ دور ختم ہوا۔ اللہ کی خصوصی مدد سے پیغمبر اور آپ کے اصحاب اس میں کامیاب ہوئے کہ وہ شرک کے غلبہ کو ختم کریں اور توحید کے دور کا آغاز کریں۔ یہ ایک بے حد مشکل منصوبہ تھا۔ یہ شرک جارج سے لڑنے کے ہم معنی تھا۔ چنانچہ دور اول کے ان موحدین کو اہل شرک کی جارحیت کی بنا پر جسمانی تعذیب (physical torture) کے مرحلہ سے گزرنا پڑا۔ سخت جانی اور مالی نقصان کے بعد یہ ممکن ہوا کہ شرک کا زور ٹوٹ جائے، اس طرح دور اول کے ان موحدین نے انسانی زندگی میں ایک نیا تاریخی عمل (historical process) جاری کیا۔ یہاں تک کہ انسانی تاریخ مذہبی جبر کے دور سے نکل کر مذہبی آزادی کے دور میں داخل ہو گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader