تاریخ کے دو دور
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
جدید مادیت کا دور اسلامی انقلاب نے جب فطرت کے مظاہر کو معبودیت کے درجہ سے ہٹایا تو اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا۔ قدیم زمانہ میں فطرت کو پر اسرار سمجھ کر اس کی پرستش کی جاتی تھی۔ اب فطرت کو سادہ طور پر ایک تخلیقی مظہر سمجھ کر اس کی تحقیق کی جانے لگی۔ فطرت کی تحقیق کا یہ عمل کئی سو سال تک جاری رہا۔ انسان فطرت کی طاقتوں کو دریافت کرنے لگا۔ مثلاً لوہے کو اسٹیل کی صورت دے کر اسپرنگ بنانا۔ پانی کو اسٹیم پاور میں تبدیل کرنا۔ معدنیات کو استعمال کر کے انجن بنانا، تیل کو مشینی ایندھن کی صورت دینا، وغیرہ۔ فطرت کی تحقیق اور تسخیر کا یہ عمل کئی سو سال تک جاری رہا۔ اس کے نتیجہ میں طرح طرح کی نئی چیزیں وجود میں آئیں۔ مثلاً مشینی سواری، تیز رفتار کمیونیکیشن، راحت اور آسائش کے بے شمار نئے سامان۔ اس طرح کی ایجادات کے نتیجہ میں وہ خوش نما تہذیب وجود میں آئی جس کو مادی تہذیب کہا جاتا ہے۔ جدید مادی تہذیب آج کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ اس مادی تہذیب نے دنیا کی زندگی کو بظاہر اتنا زیادہ پرکشش بنا دیا ہے کہ ہر آدمی اس کے سحر میں مبتلا ہے، ہر آدمی اس کی طرف دوڑا چلا جا رہا ہے۔ ہر عورت اور مرد اس کے حصول میں اپنی ساری طاقت لگائے ہوئے ہے۔ اب لوگوں کا مرکز توجہ خدا نہیں ہے بلکہ مادی ترقی ہے۔ آج کا انسان اسی دنیا میں اپنی جنت کی تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ تہذیب جدید کا یہ سحر اتنا بڑھا ہوا ہے کہ آج ایک مذہبی انسان بھی اتنا ہی زیادہ مادہ پرست ہے جتنا کہ کوئی غیر مذہبی انسان۔ موجودہ زمانہ میں قدیم مشرکانہ دور جیسا جبر تو موجود نہیں مگر اب لوگوں کا اپنا انٹرسٹ ہی ان کے لئے ایک قسم کا ذاتی جبر بن گیا ہے۔ آج کے عورت اور مرد نے کسی خارجی جبر کے بغیر خود اپنی ذاتی ارادہ کے تحت خدا کو معبود کے درجہ سے ہٹا دیا ہے اور مادیت کو معبود کے درجہ پر بٹھا لیا ہے۔ قدیم زمانہ اگر مجبور کن شرک کا زمانہ تھا تو موجودہ زمانہ مجبور کن مادیت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader