Urdu book · دین و شریعت

تاریخ کے دو دور

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

(compulsive materialism) کا زمانہ ہے۔ جو لوگ بظاہر خدا اور مذہب کا نام لیتے ہیں وہ بھی اس اختیارانہ جبر کا اتنا ہی شکار ہیں جتنا کہ وہ لوگ جو خدا اور مذہب کا نام نہیں لیتےـ مذہب یا خدا پرستی کسی رسمی کلچر کا نام نہیں۔ خدا پرستی دراصل خدا رخی زندگی (God-oriented life) کا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی سوچ مکمل طور پر خدائی سوچ بن جائےـ آدمی کا دل پوری طرح خدا کی طرف متوجہ ہو گیا ہو۔ آدمی کی سرگرمیوں مکمل طور پر اللہ کے رنگ میں رنگی ہوئی ہوں۔ آدمی کے صبح اور شام اور رات اور دن اللہ کی یاد میں بسر ہونے لگیں، اس قسم کی ربانی زندگی کا نام مذہب ہی زندگی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو آج کے بظاہر مذہبی لوگ بھی اتنا ہی زیادہ مادیت میں غرق نظر آئیں گے جتنا کہ بظاہر غیر مذہبی لوگ۔ اب دعوت کا کام یہ ہے کہ لوگوں کے ذہن سے مادیت کے غلبہ کو ختم کیا جائے اور اس کی جگہ خدا کا دینی غلبہ قائم کیا جائے۔ لوگوں کو مادی زندگی کے بجائے خدائی زندگی کی طرف لے آیا جائےـ آج مکمل طور پر مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔ اس لئے اس قسم کی دعوتی مہم میں یہ اندیشہ نہیں کہ داعی کو قدیم قسم کی جارحیت یا جسمانی تعذیب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مگر یہ کام مختلف اسباب سے اتنا زیادہ مشکل ہے کہ اس سے زیادہ مشکل کام شاید کوئی دوسرا نہیں۔ آج کے داعی کو اگر چہ جسمانی تعذیب کا خطرہ نہیں۔ مگر آج کے ایک سچے داعی کو اس سے بھی زیادہ بڑا ایک خطرہ لاحق ہے، اور وہ ذہنی تعذیب (mental torture) کا خطرہ ہے۔ جسمانی تعذیب سخت ہونے کے باوجود صرف وقتی ہوتی ہے۔ جب کہ ذہنی تعذیب ایک مسلسل تعذیب ہے جو داعی کی آخری عمر تک جاری رہتی ہے۔ دور جدید میں دعوت توحید کا کام کرنے والوں کے لئے یہ ایک بے حد سخت آزمائش ہے، مگر اس آزمائش سے گزرے بغیر آج دعوت توحید کا کام انجام نہیں دیا جا سکتا۔ دعوتی عمل دعوت کا مقصد یہ نہیں ہے کہ دنیا میں مکمل معنوں میں صالح نظام قائم ہو جائے۔ اگر دنیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page