تاریخ کے دو دور
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ابدی طور پر صالح نظام قائم رہے تو یہ خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف ہوگا۔ کیوں کہ دنیا کو آزمائش کے مقصد کے تحت بنایا گیا ہے اور آزمائش کا ماحول قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ دنیا میں ہر شخص کو آزادی حاصل ہو۔ یہاں خیر اور شر دونوں قسم کے امکانات موجود ہیں، ایسے ماحول ہی میں کسی انسان کے بارے میں فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اللہ کی مرضی پر قائم رہا یا اس سے منحرف ہو گیا۔ دعوتی عمل کا نشانہ کیا ہے، یہ قرآن کی مختلف آیتوں سے معلوم ہوتا ہے۔ مثلاً فذكر إنما أنت مذكر، لست عليهم بمصيطر (الغاشية ۲۱- ۲۲) یعنی پس تم یاد دہانی کرو، تم صرف یاد دہانی کرنے والے ہو، تم ان کے اوپر داروغه نہیں ہو۔ دعوتی عمل کا نشانہ دورِ شرک میں بھی تھا اور دورِ مادیت میں بھی یہی ہے۔ اور وہ یہ کہ جو چیز باطل ہے اس کو مدلل اور قابل فہم زبان اور ہر قسم کے مؤثر دلائل کے ذریعہ اس حد تک مبرهن کر دینا کہ مدعو کے لئے معقول طور پر یہ کہنے کا موقع باقی نہ رہے کہ اس کو اپنی گمراہی کا علم ہی نہ تھا اور اسی طرح جو کچھ حق ہے اس کو ہر قسم کے دلائل اور شواہد سے اس طرح واضح طور پر بیان کر دینا کہ مدعو غیر مشتبہ طور پر یہ جان لے کہ اللہ کی مرضی کیا ہے اور وہ کون سا راستہ ہے جس کو اختیار کر کے وہ ابدی طور پر کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس قسم کا دعوتی عمل دورِ شرک میں بھی مطلوب تھا اور اسی قسم کا دعوتی عمل اب دورِ مادیت میں بھی مطلوب ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان وہ معتدل فضا قائم ہو جو دعوت کی مؤثر انجام دہی کے لئے ضروری ہے۔ اس معتدل فضا کو قائم کرنے کی ذمہ داری مدعو کی نہیں ہے بلکہ داعی کی ہے۔ داعی پر جس طرح پیغام کو پہنچانا فرض ہے اسی طرح اس پر فرض ہے کہ وہ یکطرفہ قربانی کے ذریعہ اپنے اور مدعو کے درمیان اس موافق فضا کو باقی رکھے جو دعوتی عمل کو مؤثر طور پر انجام دینے کے لئے ضروری ہے۔ یہ دعوتی عمل کوئی سادہ عمل نہیں۔ وہ مشکل ترین قربانی کا عمل ہے۔ وہ پہلے بھی ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader