تاریخ کے دو دور
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
سخت مشکل کام تھا اور آج بھی وہ ایک سخت مشکل کام ہے۔ اس کام کا اللہ کے یہاں بہت بڑا اجر ہے۔ یہ عظیم اجر اسی لئے ہے کہ اس کو انجام دینے کے لئے انسان کو عظیم ترین قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس معاملہ میں قدیم دور اور جدید دور کے درمیان اگر کوئی فرق ہے تو وہ یہ کہ پہلے یہ کام اگر زیادہ تر جسمانی قربانی کی سطح پر انجام دینا پڑتا تھا تو اب یہ کام زیادہ تر ذہنی قربانی کی سطح پر انجام دینا پڑتا ہے۔ قدیم زمانہ کے حالات میں اس کا موقع تھا کہ اہل شرک داعیوں کو جسمانی تعذیب دے سکیں۔ چنانچہ وہ داعیوں کو جسمانی اعتبار سے عذاب میں مبتلا کرتے تھے۔ مگر موجودہ زمانہ کے حالات اس کی اجازت نہیں دیتے کہ کوئی شخص محض اختلاف رائے یا اختلاف مذہب کی بنا پر کسی کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنائے۔ اس لیے موجودہ زمانہ کے اہل باطل غیر جارحانہ انداز میں داعیوں کو ستاتے ہیں۔ اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ قدیم دور شرک میں داعیوں کے لیے جسمانی تعذیب (physical torture) کا مسئلہ تھا اور جدید دور مادیت میں داعیوں کے لیے ذہنی تعذیب (mental torture) کا مسئلہ ہے۔ دعوت الی اللہ کے اسی کام پر انسانیت کے مستقبل کا بھی انحصار ہے اور خود امت مسلمہ کے مستقبل کا بھی۔ دعوت الی اللہ کا کام اگر درست طور پر انجام نہ دیا جائے تو اللہ کے بندے اللہ کی مرضی کو جاننے سے محروم رہیں گے ، اس سے زیادہ بڑی محرومی بلاشبہ اور کوئی نہیں۔ اسی طرح اگر اہل اسلام دعوت الی اللہ کا کام انجام نہ دیں تو وہ اپنی سب سے بڑی ذمہ داری کو ترک کرنے کے مجرم ٹھہریں گے ، اور بلاشبہ یہ ایک ایسی مجرمانہ کوتاہی ہے جو اللہ کے نزدیک کسی بھی حال میں قابل معافی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader