Urdu book · دین و شریعت

اقامت الدین، تفرق فی الدین

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

دین اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے خارجی ہنگامے کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ کی دنیا میں بسیرا لینے کا نام ہے۔ دین دار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی فطرت کی اس سطح پر جینے لگے جس سطح پر خدا کی دوسری مخلوقات جی رہی ہیں۔ اس کا شعور اللہ سے مل جائے۔ اس کی یادوں میں اللہ بسا ہوا ہو۔ اس کے پر شوق جذبات کا مرکز صرف اللہ بن جائے۔ جب کوئی شخص خدا کو اس طرح پاتا ہے تو وہی اس کا مطلوب و مقصود بن جاتا ہے۔ اس کی سرگرمیوں کا رخ تمام تر خدا کی طرف ہو جاتا ہے۔ اخلاق و معاملات میں وہ وہی کرنے لگتا ہے جو اس کا خدا اس سے چاہتا ہے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ اپنے جذبات اور اپنی مصلحتوں کو اس کی خاطر قربان کر دینا پڑے۔ قرآن میں یہود و نصاریٰ کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان کی برائیاں ان سے دور کر دیتے اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں داخل کرتے۔ اور اگر وہ قائم کرتے تو رات اور انجیل کو اور جو ان کی طرف ان کے رب کے پاس سے اترا تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے قدموں کے نیچے سے، ان میں کچھ لوگ سیدھی راہ پر ہیں اور بہت سے ان میں برے کام کر رہے ہیں (مائدہ ۶۵۔۶۶) اس آیت میں ایمان و تقویٰ اور تورات و انجیل کی اقامت دونوں کو ہم معنی الفاظ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ یہود و نصاریٰ کے لئے آسمانی کتاب کی اقامت کا مطلب یہ تھا کہ وہ ایمان لائیں اور تقویٰ کی زندگی اختیار کریں۔ یہی سورہ شوریٰ میں اقامت دین کا مطلب بھی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی حقیقی معنوں میں اللہ کا مومن بن جائے۔ وہ دنیا کی زندگی میں اس سے ڈرنے لگے۔ صرف ایک اللہ اس کے ذہن کا اثاثہ اور اس کے قلب کا سرمایہ ہو۔ اس کا اللہ سے تعلق اتنا گہرا اور اتنا زندہ ہو کہ وہ اس کے اوپر مستقل نگراں بن جائے۔ پر سکون حالات ہوں یا جذباتی ہیجان کا وقت ہو، ہر حال میں وہ اللہ سے ڈرے اور ہر معاملہ میں وہ اس کی مرضی کا پابند رہے۔ اقامت دین اصلاً انفرادی طور پر اللہ کے دین پر قائم ہونے کا نام ہے۔ مگر جب بہت سے افراد اللہ کے دین پر قائم ہو جائیں تو حالات کے بقدر اس کے اجتماعی نتائج بھی ظاہر ہونا شروع ہو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page