تقلید اور اجتہاد
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم فقہ پر مبنی یہ ذہنی ڈھانچہ (mental framework) اتنا زیادہ عام ہوا کہ نام نہاد جدید مفکرین بھی اس کے خول سے باہر نہ آسکتے۔ مثلاً سید جمال الدین افغانی، سید قطب، ڈاکٹر اقبال، سید ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر موجودہ زمانہ میں ہمارے رہنماؤں کی تمام قربانیاں رائیگاں ہو کر رہ گئیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلح طریق کار کے مقابلہ میں پر امن طریق کار کس طرح زیادہ نتیجہ خیز ہے اس کا اندازہ مہاتما گاندھی کی ایک مثال سے ہوتا ہے۔ وہ ہندوستان کی تحریک آزادی میں 1919 میں شریک ہوئے۔ اس وقت تک ہندوستان کی تحریک آزادی کے اصول پر چلائی جارہی تھی۔۔ برٹش حکومت اس تشدد کو جوابی تشدد سے کچل دیتی تھی۔ مہاتما گاندھی نے اچانک یہ اعلان کیا کہ ہم تشدد کے بجائے عدم تشدد کے اصول پر اپنی تحریک چلائیں گے۔ طریق کار کی اس تبدیلی نے برٹش حکومت کو بے بس کر دیا۔ کیوں کہ غیر متشد دانہ تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے اس کے پاس کوئی جواز باقی نہ رہا تھا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ جب مہاتما گاندھی نے تحریک آزادی کے لیڈر کی حیثیت سے نیا اعلان کیا تو ایک انگریز کلکٹر نے اپنے سیکریٹریٹ کو یہ ٹیلی گرام بھیجا کہ۔۔ براہ کرم یہ بتائیں کہ ایک شیر کو تشدد کے بغیر کیسے ہلاک کیا جائے: Kindly wire instructions how to kill a tiger non-violently. خلاف زمانہ روش موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اور دانشور اپنے مقلدانہ فکر کی بنا پر ایک قسم کی خلاف زمانہ روش (anachronistic attitude) میں مبتلا ہو گئے۔ جن قدیم شخصیتوں کے وہ ذہنی مقلد بنے ہوئے تھے ان کے یہاں پر امن طریق کار یا پر امن جد و جہد کا تصور سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ یہ تصور قرآن و سنت میں واضح طور پر موجود تھا مگر براہ راست قرآن و سنت سے حکم اخذ کرنے کے لئے اجتہاد درکار تھا اور انہوں نے پہلے ہی اجتہاد کا دروازہ اس طرح بند کر دیا تھا کہ ایک صاحب کے بقول اب اس کی کنجی بھی گم ہو گئی تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader