جہاد کا تصور اسلام میں
Urdu book, p. 256
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک جنگی چیلنج تھا۔ اگر آپ اپنے ارادہ کے مطابق، عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی طرف بڑھیں تو یقینی تھا کہ قریش سے جنگی ٹکراؤ پیش آئے گا۔ مگر آپ نے حدیبیہ پر اپنا سفر ختم کر دیا اور قریش کی یک طرفہ شرطوں پر امن کا معاہدہ کر کے مدینہ واپس آگئے۔ یہ بھی واضح طور پر تشدد کے مقابلہ میں امن کا طریقہ اختیار کرنے کی ایک پیغمبرانہ مثال ہے۔ ۵۔ فتح مکہ کے واقعہ سے بھی آپ کی یہی سنت ثابت ہوتی ہے۔ اس وقت آپ کے پاس جاں شار صحابہ دس ہزار کی تعداد میں موجود تھے۔ وہ یقینی طور پر قریش سے کامیاب لڑائی لڑ سکتے تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال طاقت کے بجائے مظاہرۂ طاقت کا طریقہ اختیار فرمایا۔ آپ نے ایسا نہیں کیا کہ دس ہزار افراد کی اس فوج کو لے کر اعلان کے ساتھ نکلیں اور قریش سے جنگی تصادم کر کے مکہ پر قبضہ حاصل کریں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ کامل رازداری کے ساتھ سفر کی تیاری کی اور اپنے اصحاب کے ساتھ سفر کرتے ہوئے نہایت خاموشی کے ساتھ مکہ میں داخل ہو گئے۔ آپ کا یہ داخلہ اتنا اچانک تھا کہ قریش آپ کے خلاف کوئی تیاری نہ کر سکے اور مکہ کسی خونی تصادم کے بغیر فتح ہو گیا۔ یہ بھی پُر تشدد طریقہ کار کے مقابلہ میں پر امن طریقہ کار کو اختیار کرنے کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ ان چند مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف عام حالات میں بلکہ انتہائی ہنگامی حالات میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے مقابلہ میں امن کے اصول کو اختیار فرمایا۔ آپ کی تمام کامیابیاں اسی سنتِ امن کی عملی مثالیں ہیں۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اسلام میں امن کی حیثیت حکم عام کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف مجبورانہ استثناء کی۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیے اور پھر یہ دیکھیے کہ موجودہ زمانہ میں صورت حال کیا ہے۔ اس معاملہ میں جدید دور قدیم دور سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ قدیم زمانہ میں پُر تشدد طریقہ کار ایک عام رواج کی حیثیت رکھتا تھا۔ اور امن کا طریقہ اختیار کرنا بے حد مشکل کام تھا۔ مگر اب صورت حال یکسر طور پر بدل گئی ہے۔ موجودہ زمانہ میں پُر تشدد طریقہ کار آخری حد تک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader