Urdu book · دین و شریعت

اقامت الدین، تفرق فی الدین

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

الفاظ یہ ہیں کہ " تمام نبیوں کے دین کی پیروی کرو، اس میں متفرق نہ ہو" تولا محالہ قرآن کی اس خاص آیت میں دین کا مشترک حصہ مراد لینا ہوگا نہ کہ متفرق حصہ۔ ۳۔ اقیموا الصلوۃ کی آیت میں کوئی شخص اقیمو الزکوۃ کو شامل نہ سمجھے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حکم زکوۃ کا انکار کر رہا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ زکوۃ کا حکم دوسری آیت میں ہے نہ کہ اقیموا الصلوۃ کی آیت میں۔ اسی طرح اقیمو الدین میں شرائع کو مراد نہ لینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شرائع سرے سے مطلوب نہیں ہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ اس آیت میں شامل نہیں ہیں۔ ان کا حکم دوسری آیتوں سے نکلتا ہے اور وہاں جو الفاظ ہیں انہیں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم کی نوعیت کیا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ان الارض للہ (اعراف ۱۲۸) سے زمین کی اجتماعی ملکیت کا اصول نکالے تو کہا جائے گا کہ اس آیت کا ملکیت زمین کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملکیت کے بارے میں بلاشبہ اسلام کے احکام ہیں۔ مگر وہ دوسری آیتوں سے معلوم ہوتے ہیں نہ کہ ان الارض للہ سے۔ ۴۔ اس ضمن میں سینٹ پال کا حوالہ بالکل غیر متعلق ہے۔ سینٹ پال ازم جس چیز کا نام ہے وہ یہ کہ کوئی شخص اپنے فعل (خواہ اعتقادی ہو یا عملی) سے نجات نہیں پاتا، بلکہ اس خاص عقیدہ سے نجات پاتا ہے کہ خدا کا بیٹا مصلوب ہو کر انسان کے پیدائشی گناہ کا کفارہ ہو گیا۔ بالفاظ دیگر، سینٹ پال ازم یہ ہے کہ انسان کی نجات کا دار و مدار معروف معنوں میں نہ ایمانیات پر ہے اور نہ اعمال پر۔ بلکہ کفارہ کے مخصوص تصور کو مان لینے پر ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بالکل ایک علیحدہ مذہب ہے۔ اقیمو الدین کی مذکورہ تفسیر سے اس کو کوئی مشابہت نہیں۔ ۵۔ یہ بات بھی صحیح نہیں کہ جب اقامت دین کے حکم سے مراد صرف اساسی دین کی اقامت ہے تو بقیہ احکام و ضوابط کس لئے ہیں۔ قرآن سے ثابت ہے کہ شرعی احکام کی تکلیف با اعتبار " وسع" ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس حکم کی تعمیل کسی شخص یا گروہ کے وسع میں نہ ہو اس کے لئے وہ حکم اس وقت تک عملاً موقوف رہے گا جب تک اس کے اندر اس کی قدرت نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page