Urdu book · دین و شریعت

آئینۂ ملت

Urdu book, p. 270

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد قرآن میں یہ ہدایت اتاری گئی۔ یہ آیت خصوصی طور پر مسلمانوں کے لئے بے حد اہم ہے۔ کیوں کہ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق ، بعد کی مسلم نسلوں میں یہ خرابی عمومی طور پر پیدا ہو جائے گی جو کہ دورِ اول میں صرف جزئی طور پر ظاہر ہوئی تھی۔ اس آیت میں مال و جائیداد کے ایسے نزاعی معاملات کا ذکر ہے جن میں آدمی کو معلوم ہو کہ انصاف کی رو سے وہ اس کا حقدار نہیں۔ زیر نزاع جائیداد یا مال حقیقتاً اس کے بھائی کا ہے نہ کہ اس کا۔ لیکن اس ذاتی علم کے باوجود وہ اپنے مقدمہ کو انسانی عدالت میں لے جائے ۔ جس چیز کو وہ اپنے ضمیر کی عدالت سے بجاطور پر نہیں پا سکتا تھا اس کو خارجی عدالت کے ذریعہ بے جا طور پر حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ انسانی حاکم کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ظاہر کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ مقدمہ کے الفاظ کو دیکھتا ہے نہ کہ اس کی اصل حقیقت کو۔ اس لئے یہاں یہ موقع ہوتا ہے کہ اپنے مقدمہ کی ایسی لفظی تصویر بنائی جائے جو حاکم یاج کو گمراہ کر دے۔ وہ ظاہری الفاظ کی بنیاد پر ایسا فیصلہ دے دے ، جو حقیقت واقعہ سے کوئی تعلق نہ رکھتا ہو۔ جب لوگوں کے دلوں میں آخرت کی پکڑ کا خوف ہو تو وہ مال اور جائیداد کے ایسے مقدمات عدالت میں نہیں لے جائیں گے جن کی بابت ان کا دل پیشگی طور پر یہ کہہ رہا ہو کہ یہ میرا حق نہیں ہے۔ مگر جب دلوں میں آخرت کا خوف نہ رہے تو ذاتی مفادات ہی لوگوں کے رہنما بن جاتے ہیں۔ وہ بے تکلف ایسے معاملات کو لے کر انسانی عدالت میں پہنچ جاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ مقدمہ کو عدالت کے سامنے ایسے پر فریب الفاظ میں پیش کر سکیں گے جن سے متاثر ہو کر وہ ایک ایسی چیز انہیں دے دے، جو از روئے حق ان کی نہیں ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page