آئینۂ ملت
Urdu book, p. 271
By Maulana Wahiduddin Khan
ضمیر کی عدالت کے سامنے جھک جانا اس بات کی علامت ہے کہ امت زندہ دین پر قائم ہے اور جب لوگ ضمیر کی عدالت کو نظر انداز کر کے اپنے مقدمات انسانی عدالتوں میں لے جانے لگیں تو سمجھنا چاہیے کہ امت اپنے دور زوال میں پہنچ گئی۔ ایک شخص جس کے سینہ میں اللہ کا ڈر ہو، جو آخرت کی پکڑ کا اندیشہ رکھتا ہو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ عدالت میں صرف اپنا جائز حق لینے کے لئے جاتا ہے، نہ کہ عدالت کی طاقت سے دوسروں کے حق پر اپنا قبضہ قائم کرنے کے لئے۔ عدالت کے زور پر ایک ایسی چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا جرم ہے جو حقیقی معنوں میں اس کی نہ ہو۔ جو آدمی آخرت کی پکڑ سے ڈرتا ہو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک چیز اس کے قبضہ میں ہو مگر اس کا دل کہہ رہا ہو کہ وہ اس کی نہیں ہے تو عدالتی فیصلہ کا انتظار کئے بغیر وہ ایسی چیز کو اصل حقدار کے حوالہ کر دے گا۔ کیونکہ اس کو یقین ہوگا کہ جو چیز از روئے واقعہ میری نہیں وہ کسی انسانی عدالت کے فیصلہ کی بنا پر میری نہیں ہوسکتی، خواہ وہ عدالت کتنی زیادہ بڑی کیوں نہ ہو۔ غیر شرعی بنیاد قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں ارشاد ہوا ہے کہ۔ اور تم آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق طور پر نہ کھاؤ اور ان کو حاکموں تک نہ پہنچاؤ تا کہ دوسروں کے مال کا کوئی حصہ تم حق تلفی کر کے کھا جاؤ۔ حالاں کہ تم اس کو جانتے ہو (البقرۃ ۱۸۸) اس سے مراد وہ صورت حال ہے جب کہ ایک چیز جو شرعی قانون کے تحت نہ مل سکتی ہو اس کو غیر شرعی قانون کے زور پر حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ایک ایسا مال یا ایک ایسی جائیداد جس کے متعلق معلوم ہو کہ شریعت الہی کے مطابق وہ تمہارا حق نہیں ہے اس کو غلط تدبیر کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو۔ ایسا نہ کرو کہ ایسے مال اور جائیداد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader