Urdu book · دین و شریعت

آئینۂ ملت

Urdu book, p. 272

By Maulana Wahiduddin Khan

کے معاملہ کو دنیوی عدالت میں لے جاؤ اور اس کے زور پر وہ چیز حاصل کرنے کی تدبیر کرو جواز روئے شریعت تمہاری نہیں۔ جب بھی کسی مال یا جائداد کا مسئلہ پیدا ہو تو عام حالات میں انسان کا ضمیر ہی یہ بتانے کے لئے کافی ہوتا ہے کہ از روئے واقعہ وہ کس کا حق ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق معاملہ کرے۔ جو اس کا حق ہے اس کو اپنے پاس رکھے اور جو دوسرے کا حق ہے اس کو دوسرے کے حوالے کر دے۔ تاہم بعض حالات میں ضمیر کی رہنمائی واضح نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں آدمی کو چاہئے کہ شریعت کے معلوم قوانین کی روشنی میں اس کو جانچے اور شریعت کے ذریعہ جو فیصلہ مل رہا ہو اس کو خدائی فیصلہ سمجھ کر اسی پر راضی ہو جائے۔ اگر معاملہ دو فریق کے درمیان نزاعی ہو اور بطور خود اس کا فیصلہ نہ کیا جا سکتا ہو تو دونوں فریقوں کا فرض ہے کہ وہ اس معاملہ کو شرعی عدالت میں لے جائیں۔ اگر باضابطہ شرعی عدالت کا نظام قائم نہ ہو تو دوسری صورت یہ ہے کہ اس معاملہ میں علماء اسلام کی طرف رجوع کیا جائے اور یہ علماء اپنے شرعی علم کے مطابق جو فیصلہ دیں اس کو بلا بحث مان لیا جائے۔ نزاعی معاملات میں یہی طریقہ خدا کا مطلوب طریقہ ہے۔ جو لوگ ایسا کریں کہ وہ اپنا مقدمہ غیر شرعی عدالتوں میں لے جائیں، جو مال یا جائداد انہیں شرعی قانون کے تحت نہیں مل سکتا تھا اس کو غیر شرعی عدالت کے زور پر حاصل کرنے کی کوشش کریں وہ بلاشبہ خدا کی نظر میں سرکشی کے مجرم ہیں۔ ایسا کرنے والے لوگ بیک وقت اپنے لئے دو خطرہ مول لے رہے ہیں۔ ایک یہ کہ غیر شرعی عدالت کے زور پر اپنے حق میں فیصلہ لینے کے باوجود زیر بحث معاملہ میں ان کی حیثیت خدا کے نزدیک غاصب کی رہے گی نہ کہ مالک کی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page