Urdu book · دین و شریعت

آئینۂ ملت

Urdu book, p. 273

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے یہ کہ موت کے بعد جب وہ خدا کی بر تر عدالت میں پہنچیں تو وہاں ان کے ساتھ وہ معاملہ کیا جائے جو خدا کے نافرمانوں کے لئے مقدر ہے۔ موجودہ زمانہ میں بھی اکثر ملکوں (مثلا ہندوستان) میں تقریباً یہی صورت حال قائم ہے یعنی ہر ملک میں بیک وقت دو مختلف قسم کے فیصلے حاصل کرنے کے انتظامات ہیں۔ ایک طرف علمائے دین ہیں، جو لوگ اپنے مسائل میں ان علماء سے رجوع کریں، وہ شریعت کی روشنی میں ان کے معاملات کا فیصلہ دیں گے۔ دوسری طرف ملکی عدالتیں ہیں جہاں انسانی ساخت کے قوانین رائج ہیں، جہاں وکیلوں کو بڑی بڑی فیس دے کر ان کے ذریعہ غلط طور پر اپنے موافق فیصلے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اس طرح دنیا کے اکثر ملکوں میں مسلمان دوبارہ اسی آزمائش میں مبتلا ہیں جس آزمائش میں مدینہ کے دورِ اول کے مسلمان مبتلا تھے۔ اب جو مسلمان ایسا کریں کہ جب بھی ان کے درمیان کوئی نزاع پیش آئے خواہ وہ نکاح و طلاق کا معاملہ ہو یا مال اور جائیداد کا معاملہ، وہ اس کا فیصلہ خدائی شریعت سے کرائیں، یعنی وہ اپنے اس طرح کے معاملات کو دینی علماء (یا دار الافتاء یا دار القضاء) کے پاس لے جائیں۔ معاملہ کے دونوں فریق اپنا اپنا نقطہ نظر علماء کے سامنے بیان کریں۔ اس کے بعد وہ شریعت کی روشنی میں جو فیصلہ دیں اس کو دونوں فریق پوری طرح مان لیں۔ اس کے بعد نہ وہ اپنی نزاع کو دوبارہ جاری رکھیں اور نہ ایسا کریں کہ جس فریق کے خلاف فیصلہ ہوا ہو وہ اس کو لے کر ملکی عدالت تک پہنچ جائے اور دوبارہ وہاں از سر نو اس کے خلاف مقدمہ شروع کرا دے۔ اس کے بر عکس جو مسلمان اپنے نزاعی معاملات کو علماء کے پاس نہ لائیں بلکہ وہ اس کو ملکی عدالتوں میں لے جاکر ہر قیمت پر اپنے حق میں فیصلہ لینے کی کوشش کریں۔ ایسے لوگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page