Urdu book · دین و شریعت

آئینۂ ملت

Urdu book, p. 274

By Maulana Wahiduddin Khan

بلا شبہ مذکورہ آیت کا مصداق ہیں۔ وہ خدا اور رسول کو چھوڑ کر شیطان (طاغوت) کے پاس جارہے ہیں۔ یہ صورت حال تمام مسلمانوں کے لئے ایک سنگین آزمائش ہے۔ جو لوگ اپنے نزاعی معاملات کا فیصلہ خدائی شریعت کے مطابق لیں اور برضا و رغبت اس کو قبول کرلیں، وہ اس آزمائش میں پورے اترے۔ ایسے لوگ خدا کے یہاں مخلص مسلمان ثابت ہوں گے اور خدائی انعامات کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس کے برعکس جو لوگ ایسے معاملات میں خدائی شریعت کو نظر انداز کردیں، اور مفاد پرستی اور خود غرضی کے جذبہ کے تحت اپنا مقدمہ ان عدالتوں میں لے جائیں جن کے متعلق ہندوستان کے ایک ماہر قانون نے بجاطور پر کہا ہے کہ یہ عدالتیں مبنی بر مقدمہ بازی (litigation-based) ہیں نہ کہ مبنی بر صداقت (truth-based)۔ ایسے لوگ بلاشبہ اسی مجرمانہ ذہنیت کے شکار ہیں جس کا ذکر اوپر کی آیت میں آیا ہے۔ ان عدالتوں کے متعلق معلوم ہے کہ وہاں انصاف کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ وہاں معاملات کا فیصلہ قانونی نکتوں پر ہوتا ہے نہ کہ حقیقی واقعات پر۔ اب جو لوگ ایسا کریں کہ وہ خدائی شریعت کے مطابق فیصلہ لینے کے لئے تیار نہ ہوں۔ بلکہ مذکورہ قسم کی عدالتوں میں اپنے معاملات لے جائیں وہ بلاشبہ اللہ کے پرستار نہیں، بلکہ وہ طاغوت کے پرستار ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے سخت اندیشہ ہے کہ وہ ”نماز روزہ“ کے باوجود خدا کے نزدیک مجرم قرار پائیں اور آخرت میں ان کا انجام وہ ہو جو جو غیر خدا کے پرستاروں کے لئے مقدر کیا گیا ہے۔ تحریف کتاب قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں یہود کے علماء کی بابت ارشاد ہوا ہے کہ پس خرابی ہے ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page