آئینۂ ملت
Urdu book, p. 275
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگوں کے لئے جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ تاکہ اس کے ذریعہ تھوڑی سی پونجی حاصل کرلیں۔ پس خرابی ہے اس چیز کی بدولت جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور ان کے لئے خرابی ہے اپنی اس کمائی سے۔ (البقرہ۔ ۷۹) کسی امت کے بعد کے لوگ جب زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ تو ان کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ظاہری عقیدہ کے اعتبار سے تو وہ خدا کی کتاب کو مانتے ہیں مگر ان کی عملی زندگی سر تا سر کتاب الٰہی سے آزاد ہو جاتی ہے۔ وہ خدا کی کتاب کا زبانی اقرار کرنے کے باوجود اپنی زندگی کو پوری طرح خواہشات کے راستہ پر چلا دیتے ہیں۔ اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر، اب بھی وہ اپنے کو حق پرست ظاہر کرتے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ خواہ وہ عملی اعتبار سے کتنا ہی زیادہ منحرف ہو جائیں مگر خدا پرست ہونے کا لیبل اب بھی ان کے اوپر لگا رہے۔ اس مقصد کے لئے وہ خدا کی کتاب کی ایسی خود ساختہ تفسیر و تعبیر کرنے لگتے ہیں جس کے تحت ان کی بگڑی ہوئی زندگی عین خدائی شریعت کے مطابق نظر آنے لگے۔ یہودی علماء نے خدا کی کتاب میں تحریف کا یہ کام بہت بڑے پیمانے پر کیا۔ انھوں نے اپنے فاسد خیالات اور غلط کردار کو درست ثابت کرنے کے لئے خدا کی کتاب میں تحریفات کر کے اس کو اپنے مطابق ڈھال لیا۔ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، یہی فعل بعد کے حامل کتاب بھی انجام دین گے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ یہود نے کتاب کے متن میں تحریفات کیں اور بعد کے لوگ متن کی تشریح میں یہی کام انجام دیں گے۔ غلط روی ایک عام انسانی کمزوری ہے۔ مگر جب کوئی حامل کتاب گروہ غلط روی کا شکار ہو جائے تو وہ اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر یہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ جو کچھ کرے وہی خدا کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader