آئینۂ ملت
Urdu book, p. 276
By Maulana Wahiduddin Khan
کتاب میں بھی لکھا ہوا ہو۔ اس قسم کی خود ساختہ تفسیر و تشریح بلا شبہ بہت بڑا جرم ہے۔ مگر جب زوال کا دور آتا ہے تو وہ اپنے ساتھ بے حسی بھی ضرور لے آتا ہے۔ اب لوگ خدائی معاملات میں زیادہ حساس نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ دور زوال میں حسب حال دینی تشریحات عام ہو جاتی ہیں۔ لوگ دنیا کے فائدہ کی خاطر دین کو بدل ڈالتے ہیں۔ تحریف کا یہ معاملہ ہمیشہ دور زوال میں پیش آتا ہے جب کسی حامل کتاب پر زوال آتا ہے تو وہ اس معنی میں نہیں ہو تا کہ وہ علانیہ طور پر دین سے بے تعلق ہو جائے۔ وہ ہمیشہ اس معنی میں ہو تا ہے کہ لوگ بظاہر تو دین سے وابستگی کا اعلان کرتے ہیں مگر ان کا سرکش مزاج یا ان کی خود غرضانہ نفسیات دین کے تابع بننے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔ یہی وہ وقت ہے جب کہ ان کے در میان وہ عمل شروع ہو جاتا ہے جس کو قرآن میں تحریف کہا گیا ہے۔ اب وہ لوگ یہ کرتے ہیں کہ خدا کے کلام کو بدل کر یا اس کی خود ساختہ تشریح کر کے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہی خود خدا کے دین کا تقاضا بھی ہے۔ یہ گویا بے عملی پر سر کشی کا اضافہ ہے۔ بے عملی خدا کے یہاں معاف ہو سکتی ہے مگر سر کشی یقینی طور پر قابل معافی نہیں۔ فرضی کریڈٹ قرآن کی سورہ نمبر ۳ میں اہل کتاب کے بارے میں ارشاد ہوا ہے۔ جو لوگ اپنے کئے ہوئے پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کیا اس پر ان کی تعریف ہو، ان کو عذاب سے بری نہ سمجھو۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے (آل عمران۔۱۸۸) آسمانی کتاب کے حامل کسی گروہ پر زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہو تا کہ وہ خدا اور رسول کا نام لینا چھوڑ دے یا خدا کی کتاب سے اپنی بے تعلقی کا اعلان کر دے۔ دین ایسے گروہ کی نسلی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader