آئینۂ ملت
Urdu book, p. 277
By Maulana Wahiduddin Khan
روایات میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ اس کا پر فخر قومی اثاثہ بن جاتا ہے۔ اور جس چیز سے اس طرح کا نسلی اور قومی تعلق قائم ہو جائے اس سے علیحدگی کسی گروہ کے لئے ممکن نہیں ہوتی۔ تاہم اس کا یہ تعلق محض رسمی تعلق ہوتا ہے نہ کہ فی الواقع کوئی حقیقی تعلق۔ وہ اپنی دنیوی سرگرمیاں بھی دین کے نام پر جاری کرتے ہیں، وہ بے دین ہو کر بھی اپنے کو دیندار کہلانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ ان کو اس کا کریڈٹ دیا جائے جس کو انھوں نے کیا ہی نہیں۔ وہ نجات اخروی سے بے فکر ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور اسی کے ساتھ ایسے عقیدے بنا لیتے ہیں جس کے مطابق ان کو اپنی نجات آخرت بالکل محفوظ نظر آتی ہے۔ وہ اپنے خود ساختہ دین پر چلتے ہیں مگر وہ اپنے کو دین خداوندی کا علم بردار بتاتے ہیں۔ وہ دنیوی مقاصد کے لئے سرگرم ہوتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو آخرت کا عنوان دیتے ہیں۔ وہ خود ساختہ سیاست چلاتے ہیں اور اس کو خدائی سیاست ثابت کرتے ہیں۔ وہ قومی مفادات کے لئے اٹھتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ وہ خیر امت کا کردار ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں۔ مگر کوئی شخص بے دینی کو دین کہنے لگے تو اس بنا پر وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ آدمی دنیا کی طرف دوڑے اور آخرت سے بے پرواہ ہو جائے تو یہ صرف گمراہی ہے اور اگر وہ اپنے دنیوی کاروبار کو خدا اور رسول کے نام پر کرنے لگے تو یہ گمراہی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ کیوں کہ یہ ایسے کام پر انعام چاہنا ہے جس کو آدمی نے انجام ہی نہیں دیا۔ یہی حال امت مسلمہ کے افراد کا بھی اس وقت ہو جاتا ہے جب کہ امت اپنے دور زوال میں پہنچ چکی ہو۔ امت کے افراد میں زندہ ایمان موجود ہو تو ان کی حساسیت پوری طرح بیدار رہتی ہے ان کی یہ حساسیت اس میں رکاوٹ بن جاتی ہے کہ وہ ایسے کام کا کریڈٹ لینا چاہیں جس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader