آئینۂ ملت
Urdu book, p. 278
By Maulana Wahiduddin Khan
کو حقیقی اعتبار سے انھوں نے انجام ہی نہیں دیا مگر جب قوم پر زوال آتا ہے تو اس میں یہ حساسیت زندہ نہیں رہتی۔ اب اس کے افراد بے حسی کا شکار ہو جاتے ہیں یہی بے حسی وہ چیز ہے جو انھیں آمادہ کرتی ہے کہ وہ ایسے عمل کا انعام لینے کے لئے دوڑ پڑیں جس کو از روئے واقعہ انھوں نے انجام ہی نہ دیا ہو۔ خدا کی رحمت سے دوری قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں یہود کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ۔ بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر لعنت کی گئی داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے ۔ اس لئے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے برائی سے جو وہ کرتے تھے۔ نہایت برا کام تھا جو وہ کر رہے تھے۔ (المائدہ۔۷۹) لعنت کے معنی عربی زبان میں رحمت اور خیر سے دور کرنے کے ہیں (الابعاد والطر د من الخیر، لسان العرب) قرآن کی آیت بتاتی ہے کہ یہود جب دینی گراوٹ کا شکار ہوئے تو حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کے ذریعہ ان پر لعنت کی گئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہوں نے آکر یہ کہا کہ اے یہود، تم پر لعنت ہو۔ بلکہ انہوں نے یہ کیا کہ یہود کی چھپی ہوئی بے دینی کو ظاہر (expose) کر دیا۔ انہوں نے ان کی اصل حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔ زوال کے دور میں کسی امت سے جو چیز رخصت ہوتی ہے وہ حقیقت دین ہے۔ جہاں تک رسوم و ظواہر کا تعلق ہے وہ اب بھی پوری دھوم کے ساتھ اس کے یہاں موجود رہتے ہیں۔ یہی حال یہود کا اپنے دورِ زوال میں ہوا۔ ان کے یہاں دین کی اصل حقیقت گم ہو چکی تھی مگر لباس، وضع قطع، ظاہری عبادات، دین کے نام پر نمائشی سرگرمیالں، اس قسم کی چیزیں ان کے یہاں دھوم کے ساتھ جاری تھیں۔ مگر دین کے جو حقیقی تقاضے ہیں وہ ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader