Urdu book · دین و شریعت

آئینۂ ملت

Urdu book, p. 279

By Maulana Wahiduddin Khan

کے یہاں موجود نہ تھے۔ ان کے پیغمبر نے اس معاملہ کو طاقتور انداز میں بیان کر کے ان کی حقیقت کھول دی۔ اس آیت میں اس سلسلہ میں ایک بنیادی چیز کی نشان دہی کی گئی ہے، اور وہ ہے نہی عن المنکر کی اہمیت۔ یہود جزئی اور ظاہری نوعیت کی چیزوں میں دین کی خوب نمائش کرتے تھے مگر اسی کے ساتھ ان کا یہ حال تھا کہ معاشرہ میں وہ دیکھتے تھے کہ لوگ اخلاقی برائیاں کر رہے ہیں، لوگ ایک دوسرے کے ساتھ زیاد تیاں کر رہے ہیں، لوگ معاملات میں خدائی احکام کو چھوڑے ہوئے ہیں مگر وہ دیکھنے اور جاننے کے باوجود چپ رہتے تھے۔ وہ برائی کرنے والوں کی ندامت نہیں کرتے تھے۔ یہی دو عملی ان کو رحمت خدا وندی سے دور کرنے کا باعث بنی۔ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے اس سے اس معاملہ کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ اس کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل جب گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کے علما نے ان کو ان گناہوں اور برائیوں سے روکا مگر وہ ان سے نہیں رکے۔ اس کے باوجود علما ان کی مجلسوں میں بیٹھتے رہے۔ اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے رہے۔ پھر اللہ نے ایک کا اثر دوسرے پر ڈال دیا اور پھر داؤد اور عیسیٰ کی زبان سے ان پر لعنت کی۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ پھر آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم کو معروف کا حکم دینا ہو گا اور تمہیں منکر سے روکنا ہو گا اور تمہیں ظالم کا ہاتھ پکڑنا ہو گا تمہیں لوگوں کو حق کی طرف موڑنا ہو گا ورنہ اللہ تم پر بھی اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح یہود پر لعنت کی (تفسیر ابن کثیر ۸۳/۲) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے مراد اصلا کوئی حکومتی نظام نہیں ہے بلکہ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page