Urdu book · دین و شریعت

اقامت الدین، تفرق فی الدین

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

پیدا ہو جائے۔ اساسات دین وہ ہیں جن کی استطاعت ہر شخص کو ہر وقت رہتی ہے، اللہ سے خوف و محبت کا تعلق قائم کرنا اور بندوں کے ساتھ انصاف اور خیر خواہی کا معاملہ کرنا کس کے لئے ممکن نہیں۔ اس لئے اساسات دین کی اقامت ایک عام حکم ہے جس کا مکلف ہر شخص ہمیشہ رہتا ہے۔ اس کے بر عکس احکام اجتماعی کے نفاذ کا معاملہ اقتدار کا طالب ہے۔ اس لئے اس کے نفاذ کو اقتدار کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ جس کو جتنا اقتدار حاصل ہو، اس کے اعتبار سے اس پر دہ احکام مفروض ہوتے چلے جائیں گے جو اس کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کیوں مدنی دور میں حکومتی قوانین جاری کئے اور ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیوں تا عمر ایسا نہیں کیا۔ اس فرق کے باوجود دونوں اللہ کی نظر میں مومن کامل تھے۔ کیوں کہ کسی کے دین کا مکمل ہونا یہ ہے کہ وہ اپنے آپ پر دین کو مکمل طور پر غالب کرے نہ یہ کہ دوسروں کے اوپر مکمل حاکم بننے کے لئے ہنگامہ آرائی کرے ۔ ۶- یہ اندیشہ بھی صحیح نہیں کہ یہ اہل اسلام کو انفرادی عمل پر قانع بناتا ہے۔ اقیمو الدین کی آیت میں جس توحید پر قائم ہونے کا حکم ہے، دوسرے مقامات (یوسف ۱۰۸) پر یہ عمومی حکم بھی موجود ہے کہ اس پیغام توحید کو دوسرے بندگان خدا تک پہنچاؤ۔ تنفیذ قانون بلا شبہ ایک مشروط حکم ہے۔ مگر دعوت الی اللہ ایک عام حکم ہے جو ہر حال میں مطلوب ہے۔ دعوت کا کام پوری امت کے لئے عظیم ترین اجتماعی نشانہ عطا کرتا ہے۔ ۷۔ ایک لفظ اکثر ایک سے زیادہ معنی رکھتا ہے۔ ”دین“ کا لفظ بھی قرآن میں لغوی اور مرادی اعتبار سے کئی معنوں میں آیا ہے۔ ان تمام معانی کی فہرست بنانا اور یہ کہنا کہ اقیمو الدین میں لفظ دین کے یہ تمام معانی مراد ہیں، ایک غیر علمی بات ہے۔ کیوں کہ لفظ کا مفہوم ہمیشہ سیاق کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے نہ کہ مختلف مفہومات کی گنتی سے۔ اس طریق استدلال کی غلطی اس سے واضح ہے کہ قرآن کی پہلی سورہ میں دین کا لفظ ”جزا“ کے معنی میں آیا ہے۔ اب اگر مذکورہ طریق استدلال کو صحیح سمجھا جائے تو اقامت دین کے مفہوم میں یہ بھی شامل کرنا پڑے گا کہ مسلمان پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page