Urdu book · دین و شریعت

آئینۂ ملت

Urdu book, p. 280

By Maulana Wahiduddin Khan

سے مراد یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میں ہر مسلمان، خصوصاً علماء کے اندر یہ اسپرٹ موجود ہو کہ وہ برائی کو کسی حال میں گوارہ نہ کریں۔ معاشرہ میں خیر کی نصیحت کا ماحول ہو۔ لوگوں میں یہ عمومی مزاج ہو کہ وہ معاشرہ کے اندر برائی اور زیادتی کو کسی حال میں برداشت نہ کریں۔ جب بھی ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر کسی قسم کی زیادتی کرتا ہو اور دکھائی دے تو پورا معاشرہ اس کو رد کر دے۔ ایسے مسلمان کو سمجھایا جائے ۔ اگر سمجھانا کافی نہ ہو تو معاشرہ کے لوگ اس کی کھلی مذمت کریں۔ اس پر اتنا زیادہ معاشرتی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اپنی غلط کاری کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائے۔ مسلم معاشرہ میں برائی کی مذمت کرنا اور برائی کرنے والے کو روکنا اتنا زیادہ ضروری ہے کہ اگر کوئی مسلم معاشرہ اس ذمہ داری کو ادا نہ کرے تو اس کے لئے اندیشہ ہے کہ وہ خدا کی رحمت سے محروم کر دیا جائے، خواہ اس کے درمیان نمائش مذہب پوری دھوم کے ساتھ موجود ہو۔ فرضی عقیدہ قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں یہود و نصاریٰ کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ ـــــــــ اور یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ تم کہو کہ پھر وہ تمہارے گناہوں پر تم کو سزاکیوں دیتا ہے۔ نہیں بلکہ تم بھی اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں سے ایک آدمی ہو۔ وہ جس کو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا۔ اور اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اور اسی کی طرف لوٹ کر جاتا ہے (المائدہ ۱۸) دور زوال میں امت کے افراد میں جو غلط تصورات پیدا ہوتے ہیں ان میں سے ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page