آئینۂ ملت
Urdu book, p. 281
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ہے کہ وہ اس بھرم میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ دوسروں سے افضل ہیں۔ ان کا معاملہ خدا کے یہاں دوسروں سے مختلف ہوگا۔ دوسرے لوگ جن باتوں پر پکڑے جائیں گے اس پر ان کی پکڑ ہونے والی نہیں۔ اصل یہ ہے کہ امت جب خیر و صلاح کی حالت پر ہوتی ہے تو اس کو خدا کی طرف سے بشارتیں ملتی ہیں۔ اس کے افراد کے لئے رحمت و مغفرت کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ یہ وعدہ یا بشارت تمام تر ان کے حسن عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے نہ کہ امت سے محض نسلی تعلق کی بنیاد پر۔ دور زوال میں لوگ اس فرق کو بھول جاتے ہیں۔ وہ ان بشارتوں کو نسل اور وراثت سے متعلق سمجھتے ہیں جو صرف کردار اور صالحیت سے تعلق رکھتی تھیں۔ فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی یہی غلطی ہے جس کی بنا پر بعد کو آنے والے زوال یافتہ لوگ ایک ایسے انعام کو اپنا حصہ سمجھ لیتے ہیں جس کا استحقاق نہیں سرے سے حاصل ہی نہیں۔ خدا کے نزدیک ہر آدمی یکساں ہے۔ خدا ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان صرف کردار کی بنیاد پر فرق کرتا ہے نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ امت کے افراد میں جب دین کا حقیقی شعور زندہ ہو تو کسی اشتباہ یا مغالطہ کے بغیر وہ اس حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں کہ ان کا رب ان کے ساتھ دوسروں سے مختلف معاملہ صرف اس وقت کرے گا جب کہ ان کا حقیقی عمل دوسروں سے مختلف ہو۔ بصورت دیگر، خدا کے یہاں ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو ان کے جیسے دوسرے انسانوں کا انجام ہونے والا ہے۔ لیکن امت جب اپنے دور زوال میں پہنچ جائے تو اس کے افراد حقائق کے بجائے خوش فہمیوں میں جینے لگتے ہیں۔ اس دور زوال میں امت کے افراد میں جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان میں سے ایک وہ ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader