Urdu book · دین و شریعت

اقامت الدین، تفرق فی الدین

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

لازم ہے کہ وہ جدوجہد کر کے روز جزا کو برپا کریں تاکہ لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جاسکے۔ پھر کیا اس انقلابی تعبیر کے دعویدار اپنے دین کو مکمل کرنے کے لئے مالک یوم الدین بننے کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کریں گے۔ ۸۔ اقیموالدین کو اساسات دین کی اقامت کے معنی میں لینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ موٹی موٹی تعلیمات کو لے لیا اور باقی سب کو چھوڑ دیا۔‘‘ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس متفق علیہ دین کو پکڑو جو اصلاً اور دائماً مطلوب ہے۔ فروعی اور اختلافی چیزوں کو مدار اقامت نہ بناؤ۔ اس سے مراد ’’موٹی موٹی تعلیمات‘‘ نہیں ہیں بلکہ وہ اصلی اور حقیقی تعلیمات ہیں جن پر آخرت کی نجات کا انحصار ہے۔ انبیاء کی غیر اختلافی تعلیمات کیا تھیں۔ قرآن کے تتبع سے اس کو واضح طور پر معلوم کیا جاسکتا ہے۔ چند حوالے ملاحظہ ہوں۔ ۲۵ | الانبیاء | ۱۔ اللہ کے سوا کسی کو الٰہ نہ بنانا ۱۴ | فصلت | ۲۔ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا ۲ | النحل | ۳۔ اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنا ۵۱ | المومنون | ۴۔ رزق طیب کھانا اور عمل صالح کرنا ۵۲ | الحدید | ۵۔ ایک دوسرے کے ساتھ انصاف برتنا ۳۵ | الاحقاف | ۶۔ دوسروں کی ڈالی ہوئی اذیت پر صبر کرنا ۸۱ | آل عمران | ۷۔ دعوت حق کا ساتھ دینا ۱۶۵ | النساء | ۸۔ لوگوں کو جہنم سے ڈرانا اور جنت کی خوش خبری دینا یہی تمام انبیاء کا دین رہا ہے اور یہی وہ دین ہے جو اصلاً اور ھیقۂ اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ ظاہری اعمال بھی وہی مقبول ہیں جن میں مندرجہ بالا تعلیمات کی روح پائی جائے۔ اس کے بغیر کسی عمل کی کوئی قیمت نہیں۔ مزید یہ کہ انہیں تعلیمات میں اللہ کا پورا دین آ جاتا ہے۔ جو شخص ان چیزوں پر قائم ہو جائے وہ گویا پورے دین پر قائم ہو گیا۔ اللہ کے نزدیک اس نے اپنے دین کو کامل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page