Urdu book · دین و شریعت

اقامت الدین، تفرق فی الدین

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

کر لیا۔ دین اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کوئی خارجی "نظام" نہیں ہے جس کو اقتدار پر قبضہ کر کے لوگوں کے اوپر نافذ کیا جائے۔ دین حقیقتاً آدمی کی اپنی زندگی کا نقشہ ہے۔ آدمی کا اپنا وجود جس کے ساتھ وہ صبح و شام جی رہا ہے، جس کو لے کر وہ پیدا ہوتا ہے اور جس کو لے کر وہ مر جاتا ہے، اس وجود کو دین بناتا اور اس کو ہمہ تن اللہ کی مرضیات پر ڈھال لینا ہی دراصل اقامت دین ہے۔ یہ انسانی وجود کسی قانون یا کسی سیاسی ادارہ کی گرفت سے باہر کی چیز ہے۔ یہ صرف آدمی کے اپنے ارادہ کی گرفت میں آتا ہے۔ اس پر کسی دوسرے کا حکم نہیں چلتا بلکہ صرف اپنا حکم چلتا ہے۔ اسی انسانی وجود پر خود اپنے ارادہ سے دین کو غالب کرنے کا نام اقامت دین ہے نہ کہ حکمرانوں سے سیاسی منازعت کرنے کا یا دوسروں کی پیٹھ پر کوڑا مارنے کا۔ سیاسی اقتدار بھی بلاشبہ اسلام کا ایک جزو ہے۔ مگر وہ اہل اسلام پر اللہ کا انعام (نور ۵۵) ہے۔ یہ انعام صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ اہل اسلام کا کوئی گروہ قابل لحاظ تعداد میں اپنے اوپر مذکورہ دین کو قائم کر چکا ہو۔ اساسات دین کی اقامت کے بعد ہی شرائع دین کی اقامت کے مواقع کھولے جاتے ہیں۔ اصل دین پر خود قائم ہو جانا گویا اپنی پیٹھ کو "کوڑے" کے لئے پیش کر دینا ہے۔ جو لوگ اس خود سپردگی کا ثبوت دے دیں انہیں کو دوسروں کی پیٹھ پر کوڑا مارنے کا سیاسی اجازت نامہ عطا ہوتا ہے۔ خود سپردگی کی اس کیفیت کے بغیر لوگوں کو کوڑا مارتا خدا کی زمین میں صرف فساد برپا کرنے کا باعث ہوتا ہے نہ کہ انصاف قائم کرنے کا۔ ایسے لوگ جو دوسروں کی پیٹھ پر کوڑا لگانے کے لئے تو بہت بے قرار ہوں، مگر خود اپنی "پیٹھ" پر لفظی تنقید کو بھی برداشت نہ کریں، وہ اللہ کی نظر میں ظالم ہیں۔ قیامت میں ان سے پوچھا جائے گا کہ جب تمہاری انائیت کا یہ حال تھا کہ تم لفظی کوڑے کی مار برداشت کرنے کے لئے بھی تیار نہ تھے تو تم کو کیا حق تھا کہ دوسروں کے اوپر مادی کوڑے برسانے کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ اس سیاسی تعبیر کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ جو چیز اللہ کے نزدیک اہم تھی وہ لوگوں کے نزدیک غیر اہم بن گئی اور جو اللہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page