Urdu book · دین و شریعت

آئینۂ ملت

Urdu book, p. 300

By Maulana Wahiduddin Khan

اضاعت صلاة قرآن کی سورہ نمبر ۱۹ میں ارشاد ہوا ہے کہ___ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو کھو دیا اور وہ خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے۔ پس عنقریب وہ اپنی خرابی کو دیکھیں گے، البتہ جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور نیک کام کیا تو یہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی (مریم ۶۰۔ ۵۹) اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد امت مسلمہ کے بعد کے زمانے کے لوگ ہیں، یا تو اس کے مفہوم اول کے طور پر، ورنہ اس کے مفہوم ثانی کے طور پر۔۔ بعد کی نسلوں میں جب امت پر زوال آئے گا تو اس کے ایک گروہ کا وہ حال ہو جائے گا جو اس آیت میں بیان ہوا ہے ( هم قوم من امة محمد ﷺ فی آخر الزمان) تفسير القرطبی ۱۱/ ۱۲۲۔ اس آیت میں اضاعت صلاة سے مراد ترک صلاة نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگ سرے سے نماز پڑھنا چھوڑ دیں گے اور مسجدیں نمازیوں سے خالی ہو جائیں گی۔ ایسا نہ کسی سابقہ امت میں ہوا اور نہ امت محمدیہ میں ایسا کبھی ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز کو ضائع کرنے سے مراد نماز کی روح کا ضائع ہونا ہے نہ کہ نماز کی شکل کا باقی نہ رہنا۔ (ہی عدم القيام بحقوقها) القرطبی ۱۱/ ۱۲۲۔ یہ بات حدیث میں زیادہ واضح لفظوں میں آئی ہے۔ مسند احمد اور الترمذی (کتاب العلم) میں روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ بعد کے زمانہ میں امت کا یہ حال ہو جائے گا کہ ان کی مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوئی ہوں گی مگر ان کی نمازیں خشوع سے خالی ہوں گی حتیٰ کہ تم ان میں ایک بھی خاشع آدمی نہیں دیکھو گے (فلا ترى فيه رجلا خاشعا)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page