Urdu book · دین و شریعت

آئینۂ ملت

Urdu book, p. 302

By Maulana Wahiduddin Khan

لئے برائیوں کے خلاف روک نہیں بنتی مگر جو نماز اسپرٹ کے ساتھ ہو وہ عین اپنے مزاج کے مطابق برائیوں سے روکنے والی بن جاتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے کہ ”ان الصلاۃ تنهی عن الفحشاء والمنکر “ (العنکبوت)۔ تحاکم الی الطاغوت قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں ارشاد ہوا ہے: اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اصحاب امر کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاۂ، اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، یہ بات اچھی ہے اور اس کا انجام بہتر ہے۔ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے ہیں اس پر جو اتارا گیا ہے تمہاری طرف اور جو اتارا گیا ہے تم سے پہلے، وہ چاہتے ہیں کہ اپنا قضیہ لے جائیں طاغوت کی طرف، حالانکہ ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کو نہ مانیں اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر بہت دور ڈال دے (۵۹۔۶۰) یہ آیت مدینہ کے ابتدائی دور میں اتری۔ اس وقت مشترک سماج قائم تھا۔ چنانچہ لوگوں کے لئے اپنے معاملات کا فیصلہ لینے کی دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ وہاں کے یہودی عالم کعب بن اشرف کے پاس جا کر اس کے سامنے اپنا معاملہ بیان کیا جائے اور اس سے فیصلہ لیا جائے۔ یہودی علماء سے فیصلہ لینے کی یہ روایت صدیوں سے مدینہ میں چلی آرہی تھی۔ دوسرا یہ کہ معاملہ کے دونوں فریق رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے اپنے معاملہ کا فیصلہ کرائیں۔ رسول اللہ ﷺ معاملات کا فیصلہ خدائی شریعت کے مطابق کرتے تھے۔ اس کے مقابلے میں کعب بن اشرف خدائی شریعت کا پابند نہ تھا۔ اس کے یہاں یہ امید ہوتی تھی کہ کوئی لفظی یا عملی تدبیر کر کے غلط طور پر اپنے حق میں فیصلہ لے لیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page