آئینۂ ملت
Urdu book, p. 303
By Maulana Wahiduddin Khan
مدینہ کے مخلص مسلمانوں کے درمیان جب بھی کوئی نزاع پیدا ہوتی تو وہ ہمیشہ اس کولے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے۔ ان لوگوں کے پیش نظر یہ نہیں ہوتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح اپنے حق میں فیصلہ حاصل کر لیں۔ بلکہ ان کا جذبہ یہ ہوتا تھا کہ زیر بحث معاملہ میں خدائی شریعت کا جو حکم ہے اس کو معلوم کریں اور پھر اس کو پوری آمادگی کے ساتھ قبول کر لیں۔ تاہم مدینہ میں کچھ غیر مخلص اور مفاد پرست مسلمان بھی تھے جن کو منافق کہا جاتا ہے۔ غیر مخلص یا منافق مسلمان زیادہ تر وہ لوگ تھے جو یہودی قبائل سے نکل کر مسلمان ہوئے تھے۔ اس زمانہ کے یہودی چونکہ اپنے دور زوال میں تھے ان میں ہر قسم کی اخلاقی کمزوریاں آچکی تھیں۔ اس لئے جو لوگ ان یہودی نسلوں سے نکل کر اسلام میں آئے وہ اپنی قومی کمزوریاں بھی اپنے ساتھ لائے۔ انھوں نے اسلام تو قبول کر لیا تھا مگر اخلاقی اعتبار سے وہ انھیں کمزوریوں کا شکار تھے جو اس زمانہ کے یہودیوں میں عام طور پر پائی جارہی تھیں۔ مذکورہ قسم کے کمزور ایمان والے مسلمانوں سے جب کسی شخص کی نزاع پیش آتی تو وہ اپنے مفاد پرستانہ مزاج کے تحت یہ چاہنے لگتا کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے موافق فیصلہ حاصل کرے ۔ چونکہ اس طرح کا حق فیصلہ رسول اللہ ﷺ سے نہیں مل سکتا تھا اس لئے وہ اپنا مقدمہ لے کر کعب ابن اشرف کے پاس جاتے ، کیونکہ ان کو امید ہوتی تھی کہ اس یہودی عالم کے یہاں سے وہ اپنے موافق فیصلہ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مذکورہ آیت میں اس قسم کے غیر مخلص مسلمانوں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ تم اپنے معاملہ کا فیصلہ لینے کے لئے طاغوت (یہودی عالم) کے یہاں جاتے ہو۔ صرف اس لئے کہ اپنی خواہش کے مطابق وہاں سے فیصلہ حاصل کرو مگر اس قسم کا فعل خدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader