آئینۂ ملت
Urdu book, p. 304
By Maulana Wahiduddin Khan
کی نظر میں سخت گناہ ہے۔ یہ شیطان کی پیروی ہے نہ کہ حق کی پیروی۔ جو چیز شرعی طور پر آپ کا حق نہ ہو اس کو غیر شرعی ذریعہ سے حاصل کرنے کی کوشش کرنا ایک جرم ہے۔ مزید یہ کہ غیر شرعی ذریعہ سے ایسی چیز کسی کو مل جائے تب بھی وہ اس کی نہیں ہوگی۔ پھر بھی خدا کی نظر میں وہ غاصب قرار پائے گا۔ اور آخرت میں سخت سزا کا مستحق ہوگا۔ قساوتِ قلب قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کسی مسلم قوم پر جب لمبی مدت گزر جائے تو اس کے افراد کے دلوں میں قساوت پیدا ہو جاتی ہے۔ (الحدید۔ ۵۳) اس قساوت کو قرآن میں دل کا مرض بتایا گیا ہے (الحج۔ ۵۳) یہ قساوت بڑھتے بڑھتے اس نوبت کو پہنچ جاتی ہے کہ لوگوں کے دل پتھر کی طرح غیر اثر پذیر ہو جاتے ہیں (البقرہ۔ ۷۴)۔ جن لوگوں کے دلوں میں یہ قساوت آجائے وہ نہایت آسانی سے شیطان کی تزئین کا شکار ہو جاتے ہیں (الانعام۔ ۴۳) قساوت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے سینے میں خدا کی یاد والی کیفیات کا پیدا ہونا ختم ہو جاتا ہے (الزمر۔ ۳۹) قساوت کا آخری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی خدا کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے۔ یہی وہ صورت حال ہے جس کو قرآن میں لعنت کہا گیا ہے۔ (المائدہ۔ ۱۳) امام مالک نے اپنی مؤطا میں ایک حدیث نقل کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جس دل کے اندر قساوت ہو وہ اللہ سے بہت دور ہو جاتا ہے۔ (فان القلب القاسی بعيد من الله) موطا الامام مالك ٦٩٨ ۔ قساوت کا مطلب ہے سخت ہونا۔ کہا جاتا ہے: حجر قاس۔ یعنی سخت پتھر۔ اسی طرح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader