آئینۂ ملت
Urdu book, p. 305
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا جاتا ہے: ارض قاسية (بنجر زمین)۔ سختی کی یہی صفت جب کسی دل میں پیدا ہو جائے تو اس کو قلب قاسی کہا جائے گا۔ یعنی بے حس قلب، ایسا دل جس کے اندر سے حساسیت رخصت ہو گئی ہو، جس کا حال یہ ہو جائے کہ وہ برائی کرے تو اس کی شناعت پر اس کا دل نہ تڑپے۔ گناہ کا احساس اس کی آنکھوں سے آنسو بن کر نہ نکلے۔ اسی کا نام قساوت یا بے حسی ہے۔ یہ قساوت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ قساوت کا نقصان یہ ہے کہ اس کے بعد آدمی کے اندر سے ایمانی حساسیت ختم ہو جاتی ہے۔ بے حسی کا مطلب ہے دل کا مر جانا، اور حساسیت کا مطلب ہے دل کا زندہ رہنا۔ جن لوگوں کے دل زندہ ہوں انھیں کے اوپر خدا کا فیضان اترتا ہے۔ انھیں فرشتوں کی صحبت نصیب ہوتی ہے۔ دل کی یہ زندگی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ ان کو خدا کے پسندیدہ اعمال کی توفیق ملتی رہے۔ ان کی روحانی ترقی کا سلسلہ برابر جاری رہے یہاں تک کہ ان کی شخصیت وہ ربانی شخصیت بن جائے جس کو آخرت میں خدا کا پڑوس ملے گا، جس کا دوسرا نام جنت ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں کے دلوں میں قساوت آجائے وہ اندر سے ایک مردہ انسان کی مانند ہو جاتے ہیں۔ ان کے اندر وہ صلاحیت ختم ہو جاتی ہے جو انھیں خدا سے قریب کرے، جو انھیں فرشتوں کا ہم نشیں بنائے۔ ایسے لوگوں کا دل اس طرح سخت ہو جاتا ہے کہ وہ کسی تڑپانے والی بات پر نہ تڑپے۔ ان کی آنکھیں اس طرح خشک ہو جاتی ہیں کہ وہ آنسوؤں کا دریا بہانے والی بات پر بھی آنسو نہ بہائیں۔ حساس آدمی کو جب شیطان بہکاتا ہے تو وہ اپنی حساسیت کی بنا پر فورا اس سے باخبر ہو جاتا ہے۔ اور اللہ کی طرف رجوع کر کے اسی وقت اپنی اصلاح کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ بے حس ہو جائیں، شیطان نہایت آسانی کے ساتھ ان کو بہکانے میں کامیاب ہو جاتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader