Urdu book · دین و شریعت

افتراق امت

Urdu book, p. 311

By Maulana Wahiduddin Khan

پوچھا کہ یہ گروہ کون ہے اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: وہ جو اس پر ہو جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب۔ امت کا فرقوں میں بٹ جانا اسی سبب سے ہوتا ہے جس کو قرآن میں غلو (النساء ۱۷۱) کہا گیا ہے۔ یہ بات حدیث رسول سے ثابت ہے۔ مسند احمد، النسائی (کتاب المناسک) ابن ماجہ (کتاب المناسک) میں ایک روایت کچھ لفظی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ مسند احمد کے مطابق، رسول اللہ نے فرمایا "ایاكم والغلو في الدين فإنما هلك من كان قبلكم بالغلو في الدين (مسند احمد ۲۱۵/۱) یعنی تم لوگ دین میں غلو سے بچو۔ کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں دین میں غلو ہی کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔ عربی زبان میں غلو کا مطلب ہوتا ہے حد سے تجاوز کرنا (جاوز حدہ) دین میں غلو کا مطلب ہے دین کی کسی تعلیم میں غیر ضروری تشدد کرنا یہاں تک کہ آدمی شریعت کی مقرر حد سے نکل جائے۔ ایسے شخص کو غالی کہا جائے گا، غلو کی یہ برائی ہمیشہ اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ امت کے اندر دین کی اصل روح کمزور پڑ جائے۔ دین کی اصل روح سے مراد تقویٰ ہے، یعنی خدا کا خوف۔ جب لوگوں کے اندر خدا کا خوف نہ رہے تو ان کے اندر وہ مانع (check) باقی نہیں رہتا جو ان کو بے قیدی اور بے راہ روی سے بچائے۔ یہی وہ کمی ہے جو امت کے اندر غلو کا سبب بنتی ہے۔ غلو کے اس مزاج کو دوسرے لفظوں میں انتہا پسندی (extremism) کہا جا سکتا ہے۔ غلو کی اکثر خرابیاں اسی انتہا پسندی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، مثلاً عیسائیوں میں ابنیتِ مسیح کا نظریہ اسی انتہا پسندی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ جیسا کہ معلوم ہے، حضرت مسیح باپ کے بغیر صرف ماں کے ذریعہ پیدا ہوئے تھے۔ چنانچہ ان کو قرآن میں اللہ کے کلمہ سے اور اللہ کی روح سے پیدا ہونے والا بتایا گیا ہے (النساء ۱۷۱)۔ یہی حضرت مسیح کی اصل حقیقت تھی مگر مسیحی علماء نے اس میں غلو اور انتہا پسندی کر کے یہ عقیدہ ایجاد کر لیا کہ حضرت مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page